عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پاک کس عیب سے وہ پیکرِ تنویر نہ تھا
حسنِ بے پردہ پہ کب پردۂ تطہیر نہ تھا
سینۂ سنگ دلاں میں بھی کیا گھر جس نے
غمزۂ ابروئے رحمت تھا کوئی تیر نہ تھا
آپ اُس وقت بھی تھے قصرِ حقیقت کا جمال
جب کہ اک پایہ بھی سنسار کا تعمیر نہ تھا