Showing posts with label نورالہدیٰ رضوی. Show all posts
Showing posts with label نورالہدیٰ رضوی. Show all posts

Tuesday, 10 February 2026

پاک کس عیب سے وہ پیکر تنویر نہ تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پاک کس عیب سے وہ پیکرِ تنویر نہ تھا

حسنِ بے پردہ پہ کب پردۂ تطہیر نہ تھا

سینۂ سنگ دلاں میں بھی کیا گھر جس نے

غمزۂ ابروئے رحمت تھا کوئی تیر نہ تھا

آپ اُس وقت بھی تھے قصرِ حقیقت کا جمال

جب کہ اک پایہ بھی سنسار کا تعمیر نہ تھا

Saturday, 19 April 2025

کب کوئی در شاہ پہ تدبیر سے پہنچا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کب کوئی درِ شاہ پہ تدبیر سے پہنچا

پہنچا تو فقط خوبئ تقدیر سے پہنچا

ہر گوشۂ آفاق میں پیغامِ صداقت

اے افصحِ عالم! تِری تقریر سے پہنچا

اس پر بھی تِرا فیضِ اتم جھوم کے برسا

تشنہ جو تِری بزم میں تاخیر سے پہنچا

Wednesday, 9 April 2025

شبیہ ابھری نظر میں ان کے جمال کی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شبیہ ابھری نظر میں ان کے جمال کی ہے

سو آج رونق ہی اور بزمِ خیال کی ہے

غموں کی شدت نے جب طبیعت نڈھال کی ہے

درودﷺ پڑھ کر شکستہ حالت بحال کی ہے

چھپے ہیں ابرِ فلک میں تارے، حیا کے مارے

کہ جوت پھیلی تِرےﷺ غبارِ نعال کی ہے

Friday, 21 February 2025

چمن میں آگ لگے آشیاں رہے نہ رہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چمن میں آگ لگے آشیاں رہے نہ رہے

تِری بہار رہے گی ، خزاں رہے نہ رہے

حضورﷺ! آپ کا دستِ کرم دراز رہے

کہ سر پہ سایۂ ہفت آسماں رہے نہ رہے

سہارہ آپ کی رحمت کا ہے بہت ہم کو

بروزِ حشر کوئی مہرباں رہے نہ رہے

Tuesday, 15 October 2024

صد شکر کہ توفیق ملی رب کی طرف سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


صد شکر کہ توفیق ملی رب کی طرف سے

صد فخر مشرّف ہوا مدحت کے شرف سے

لمسِ قدمِ شاہﷺ کے اعجاز سے، ذرے

آتے ہیں نظر پارۂ خورشید بکف سے

اک دُرِّ یگانہ کا تفرد ہے مسلم

گو نکلے بہت گوہرِ نایاب صدف سے

Sunday, 6 October 2024

بن جاؤں میں بھی زائر طیبہ خدا کرے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بن جاؤں میں بھی زائرِ طیبہ خدا کرے

واپس نہ لوٹ پاؤں کچھ ایسا خدا کرے

سر فخر سے بلند ہو میرا بھی گر مجھے

اس سنگِ در کا ناصیہ فرسا خدا کرے

ٹوٹے تو ٹوٹ جائے طنابِ نفس، مگر

ٹوٹے نہ ان کے ذکر سے رشتہ خدا کرے

Wednesday, 2 October 2024

ہاتھ خالی شہ کوثر نہیں جانے دیتے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہاتھ خالی شہِ کوثرؐ نہیں جانے دیتے

بندۂ در کو وہ در در نہیں جانے دیتے

حیطۂ خیر میں رکھتے ہیں سدا خیرِ بشرؐ

جانبِ شر ہمیں یکسر نہیں جانے دیتے

لطف ایسے بھی وہ فرماتے ہیں مہجوروں پر

صدمۂ ہجر سے باہر نہیں جانے دیتے