جسے لالچ نہ ہو ایسا بڑی مشکل سے ملتا ہے
غریب انسان کو رشتہ بڑی مشکل سے ملتا ہے
امیروں کے تو قدموں میں پڑی رہتی ہے یہ دولت
مگر مزدور کو پیسہ بڑی مشکل سے ملتا ہے
اندھیروں میں اجالا ڈھونڈنے والوں کو سمجھا دو
سیاست میں کوئی "سچا" بڑی مشکل سے ملتا ہے
جسے لالچ نہ ہو ایسا بڑی مشکل سے ملتا ہے
غریب انسان کو رشتہ بڑی مشکل سے ملتا ہے
امیروں کے تو قدموں میں پڑی رہتی ہے یہ دولت
مگر مزدور کو پیسہ بڑی مشکل سے ملتا ہے
اندھیروں میں اجالا ڈھونڈنے والوں کو سمجھا دو
سیاست میں کوئی "سچا" بڑی مشکل سے ملتا ہے
خامشی باعث رسوائی نہیں ہوتی ہے
مستقل بولنا دانائی نہیں ہوتی ہے
ہر جگہ دل کے پھپھولے نہیں پھوڑا کرتے
ہر جگہ زخم پہ ترپائی نہیں ہوتی ہے
ہم غریبوں کے نوالوں پہ اثر پڑتا ہے
ہر کسی کے لیے مہنگائی نہیں ہوتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب بھی کوئی کرتا ہے گُفتگو مدینہ کی
اور بھی رُلاتی ہے آرزو مدینہ کی
مسکن محمدﷺ کا احترام لازم ہے
گُفتگو نہیں کرنا بے وضو مدینہ کی
ان کے دل میں بھی مولیٰ عشقِ مصطفیٰ بھر دے
جو کبھی نہیں کرتے گُفتگو مدینہ کی
خامشی باعثِ رُسوائی نہیں ہوتی ہے
مستقل بولنا دانائی نہیں ہوتی ہے
ہر جگہ دل کے پھپھولے نہیں پھوڑا کرتے
ہر جگہ زخم پہ ترپائی نہیں ہوتی ہے
ہم غریبوں کے نوالوں پہ اثر پڑتا ہے
ہر کسی کے لیے مہنگائی نہیں ہوتی ہے