Sunday, 7 June 2026

آج بدلی ہے ہوا ساقی پلا جام شراب

 آج بدلی ہے ہوا ساقی پلا جام شراب

برس کالی وعدہ جاتے ہیں برس کالے سحاب

آرسی سوں اب شراب ناب کھینچا چاہئے

نیند سوں اٹھ یار نے دیکھا ہے چشم نیم خواب

صاف دل ہو گر ہے تجھ کوں خواہش ترک ہوا

آب آئینہ اوپر آتا نہیں ہرگز حباب

صورت مہتاب رو ظاہر ہے میرے اشک سوں

جلوہ گر جیوں آب دریا میں ہے عکس ماہتاب

ہر کتاب صحبت رنگیں کے معنی دیکھ کر

فرد تنہائی کے مضموں کوں کیا ہوں انتخاب

صاحب معنی کیا ہے حق مجھے روز بنا

پوستیں جامہ ہے میرے بر منے مثل کتاب

خیمۂ گل باغ میں برپا ہے اے داؤد آج

تن رہی ہے دیکھ کیا آواز بلبل کی طناب


داؤد اورنگ آبادی

No comments:

Post a Comment