ہم سب پہ نحوست سی برستی تو نہیں ہے
بستی مِری فرعون کی بستی تو نہیں ہے
لگتا ہے کہ اک بار "انا البرق" کہا تھا
جلنا ہی مِرا مقصدِ ہستی تو نہیں ہے
مانا کہ اُجالوں سے ہیں مانوس سبھی لوگ
ہر آنکھ نظارے کو ترستی تو نہیں ہے
ہم سب پہ نحوست سی برستی تو نہیں ہے
بستی مِری فرعون کی بستی تو نہیں ہے
لگتا ہے کہ اک بار "انا البرق" کہا تھا
جلنا ہی مِرا مقصدِ ہستی تو نہیں ہے
مانا کہ اُجالوں سے ہیں مانوس سبھی لوگ
ہر آنکھ نظارے کو ترستی تو نہیں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پڑ گیا سایۂ گنبد بھی اگر کانٹوں پر
جگمگا اٹھیں گے پھر شمس و قمر کانٹوں پر
رشکِ مہتاب تھا صحرائے مدینہ شب بھر
اوس بن بن کے اترتی تھی سحر کانٹوں پر
خواب میں آپﷺ جو ایک بار اگر آ جائیں
مجھ کو آ جائے گا جینے کا ہنر کانٹوں پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تڑپ رہا ہوں میں دیدار کو زمانے سے
مجھے بلائیے آقاﷺ کسی بہانے سے
جھکا ہے سارا زمانہ ہمارے قدموں پر
حضور آپؐ کے قدموں پہ سر جھکانے سے
خدا کرے کہ کوئی رابطہ سا پیدا ہو
اس آستانے کا میرے غریب خانے سے
خدا کے گھر میں خدا کے سوا نہ تھا کچھ بھی
مِری دعا کے لیے راستہ نہ تھا کچھ بھی
مِرے خلاف زمانے کو وہ نہ کر پایا
مِری برائی میں شاید برا نہ تھا کچھ بھی
ملا تھا وہ مجھے کل شب بہت ہی عجلت میں
میں سوچتا ہوں مجھے سوچنا نہ تھا کچھ بھی
جھوٹ کہہ کر سکون پا نہ سکے
ہم کسی سے نظر ملا نہ سکے
اپنے حق میں زمیں تھی برفیلی
ہم نقوشِ قدم بنا نہ سکے👣
ایسے ہیرے تھے کانچ سے بد تر
جو اندھیرے میں جگمگا نہ سکے