Showing posts with label کشور کولاری. Show all posts
Showing posts with label کشور کولاری. Show all posts

Friday, 2 January 2026

ہم سب پہ نحوست سی برستی تو نہیں ہے

 ہم سب پہ نحوست سی برستی تو نہیں ہے

بستی مِری فرعون کی بستی تو نہیں ہے

لگتا ہے کہ اک بار "انا البرق" کہا تھا

جلنا ہی مِرا مقصدِ ہستی تو نہیں ہے

مانا کہ اُجالوں سے ہیں مانوس سبھی لوگ

ہر آنکھ نظارے کو ترستی تو نہیں ہے

Wednesday, 8 January 2025

پڑ گیا سایۂ گنبد بھی اگر کانٹوں پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پڑ گیا سایۂ گنبد بھی اگر کانٹوں پر

جگمگا اٹھیں گے پھر شمس و قمر کانٹوں پر

رشکِ مہتاب تھا صحرائے مدینہ شب بھر

اوس بن بن کے اترتی تھی سحر کانٹوں پر

خواب میں آپﷺ جو ایک بار اگر آ جائیں

مجھ کو آ جائے گا جینے کا ہنر کانٹوں پر

Friday, 3 January 2025

تڑپ رہا ہوں میں دیدار کو زمانے سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تڑپ رہا ہوں میں دیدار کو زمانے سے

مجھے بلائیے آقاﷺ کسی بہانے سے

جھکا ہے سارا زمانہ ہمارے قدموں پر

حضور آپؐ کے قدموں پہ سر جھکانے سے

خدا کرے کہ کوئی رابطہ سا پیدا ہو

اس آستانے کا میرے غریب خانے سے

Tuesday, 24 December 2024

خدا کے گھر میں خدا کے سوا نہ تھا کچھ بھی

 خدا کے گھر میں خدا کے سوا نہ تھا کچھ بھی

مِری دعا کے لیے راستہ نہ تھا کچھ بھی

مِرے خلاف زمانے کو وہ نہ کر پایا

مِری برائی میں شاید برا نہ تھا کچھ بھی

ملا تھا وہ مجھے کل شب بہت ہی عجلت میں

میں سوچتا ہوں مجھے سوچنا نہ تھا کچھ بھی

Friday, 20 December 2024

جھوٹ کہہ کر سکون پا نہ سکے

 جھوٹ کہہ کر سکون پا نہ سکے

ہم کسی سے نظر ملا نہ سکے

اپنے حق میں زمیں تھی برفیلی

ہم نقوشِ قدم بنا نہ سکے👣

ایسے ہیرے تھے کانچ سے بد تر

جو اندھیرے میں جگمگا نہ سکے