Showing posts with label ذکی طارق. Show all posts
Showing posts with label ذکی طارق. Show all posts

Sunday, 28 July 2024

لمحہ لمحہ ذات میری معتبر ہوتی گئی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لمحہ لمحہ ذات میری معتبر ہوتی گئی

مجھ پہ چشمِ رحمتِ خیرالبشرؐ ہوتی گئی

جس کو جس کو لمسِ پائے مصطفیٰﷺ ملتا گیا

عطر کا چشمہ وہ ہر اک رہگزر ہوتی گئی

تم تو علمِ غیب سے لا علم کہتے تھے انہیں

ان کو اک اک بات کی لیکن خبر ہوتی گئی

Saturday, 15 April 2023

عرب میں روضۂ اطہر ہے کیا کیا جائے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عرب میں روضۂ اطہر ہے کیا کیا جائے

دل اس کی دید کو مضطر ہے کیا کیا جا ئے

بلاؤں میں ہو گِھرے تو نبیﷺ کو دو آواز

تمہارے ہونٹوں پہ کیونکر ہے کیا کیا جائے

میں چاہتا ہی رہا کوئی بار بار گیا

یہ اپنا اپنا مقدر ہے کیا کیا جائے

Saturday, 4 December 2021

میں فکر مند نہیں قبر پر سیہ کے لٸے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں فکر مند نہیں قبرِ پُر سیہ کے لیے

ہے نورِ عشقِ محمدﷺ بہت ضیا کے لیے

بہشت کی ہے تمنا تو جا رسولؐ کے پاس

بہشت وقف ہے سردارِ انبیاءﷺ کے لیے

قسم خدا کی یہ تخلیق کائنات ہوئی

مِرے رسولِؐ مکرم کی اقتداء کے لیے

Tuesday, 17 August 2021

مناتا ہوں مگر ویسے ہی بس روٹھے ہوئے سے ہیں

 مناتا ہوں مگر ویسے ہی بس روٹھے ہوئے سے ہیں

وہ شاید ترکِ الفت کی قسم کھائے ہوئے سے ہیں

تمہارے ہجر کے صدموں نے حالت یہ بنا دی ہے

نہ ہم سوئے ہوئے سے ہیں نہ ہم جاگے ہوئے سے ہیں

بس اتنے سے سمجھ لو کوئے جاناں کے فضائل تم

گُلوں کے مثلِ ہی کانٹے وہاں مہکے ہوئے سے ہیں

Monday, 12 July 2021

ترے بغیر کٹے دن نہ شب گزرتی ہے

 تِرے بغیر کٹے دن نہ شب گزرتی ہے

حیات کس سے کہوں کیسے اب گزرتی ہے

گمان ہوتا ہے مجھ کو تمہارے آنے کا

ہوا ادھر سے دبے پانوں جب گزرتی ہے

ہمارا کیا ہے کسی طور کٹ ہی جائے گی

سکوں سے ان کی تو شامِ طرب گزرتی ہے

عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا

 عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا

میں چپ رہا تو شکستہ مکان بولے گا

ابھی ہجوم ہے اس کو جلوس بننے دے

تِرے خلاف ہر اک بے زبان بولے گا

ہماری چیخ کبھی بے اثر نہیں ہو گی

زمیں خموش سہی آسمان بولے گا

Sunday, 11 July 2021

بے مکاں میرے خواب ہونے لگے

 بے مکاں میرے خواب ہونے لگے

رت جگے بھی عذاب ہونے لگے

حسن کی محفلوں کا وزن بڑھا

جب سے ہم باریاب ہونے لگے

ہے عجب لمس ان کے ہاتھوں کا

سنگریزے گلاب ہونے لگے

Saturday, 12 June 2021

تڑپ چاہت لگن دھن اور جذبہ ہم بھی رکھتے ہیں

 تڑپ، چاہت، لگن، دُھن اور جذبہ ہم بھی رکھتے ہیں

ستارے توڑ لانے کی تمنا ہم بھی رکھتے ہیں

تِرے الطاف کی امید مولا ہم بھی رکھتے ہیں

کہ پیشانی پہ نورِ نقشِ سجدہ ہم بھی رکھتے ہیں

تمہاری نرگسی آنکھوں کو دیکھا تو ہوا ظاہر

کہ دل ہی دل میں شغلِ جام و مینا ہم بھی رکھتے ہیں

Monday, 26 April 2021

بھرے تو کیسے پرندہ بھرے اڑان کوئی

 بھرے تو کیسے پرندہ بھرے اڑان کوئی

نہیں ہے تیر سے خالی یہاں کمان کوئی

تھیں آزمائشیں جتنی تمام مجھ پہ ہوئیں

نہ بچ کے جائے گا اب مجھ سے امتحان کوئی

یہ طوطا مینا کے قصے بہت پرانے ہیں

ہمارے عہد کی اب چھیڑو داستان کوئی