عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لمحہ لمحہ ذات میری معتبر ہوتی گئی
مجھ پہ چشمِ رحمتِ خیرالبشرؐ ہوتی گئی
جس کو جس کو لمسِ پائے مصطفیٰﷺ ملتا گیا
عطر کا چشمہ وہ ہر اک رہگزر ہوتی گئی
تم تو علمِ غیب سے لا علم کہتے تھے انہیں
ان کو اک اک بات کی لیکن خبر ہوتی گئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لمحہ لمحہ ذات میری معتبر ہوتی گئی
مجھ پہ چشمِ رحمتِ خیرالبشرؐ ہوتی گئی
جس کو جس کو لمسِ پائے مصطفیٰﷺ ملتا گیا
عطر کا چشمہ وہ ہر اک رہگزر ہوتی گئی
تم تو علمِ غیب سے لا علم کہتے تھے انہیں
ان کو اک اک بات کی لیکن خبر ہوتی گئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عرب میں روضۂ اطہر ہے کیا کیا جائے
دل اس کی دید کو مضطر ہے کیا کیا جا ئے
بلاؤں میں ہو گِھرے تو نبیﷺ کو دو آواز
تمہارے ہونٹوں پہ کیونکر ہے کیا کیا جائے
میں چاہتا ہی رہا کوئی بار بار گیا
یہ اپنا اپنا مقدر ہے کیا کیا جائے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں فکر مند نہیں قبرِ پُر سیہ کے لیے
ہے نورِ عشقِ محمدﷺ بہت ضیا کے لیے
بہشت کی ہے تمنا تو جا رسولؐ کے پاس
بہشت وقف ہے سردارِ انبیاءﷺ کے لیے
قسم خدا کی یہ تخلیق کائنات ہوئی
مِرے رسولِؐ مکرم کی اقتداء کے لیے
مناتا ہوں مگر ویسے ہی بس روٹھے ہوئے سے ہیں
وہ شاید ترکِ الفت کی قسم کھائے ہوئے سے ہیں
تمہارے ہجر کے صدموں نے حالت یہ بنا دی ہے
نہ ہم سوئے ہوئے سے ہیں نہ ہم جاگے ہوئے سے ہیں
بس اتنے سے سمجھ لو کوئے جاناں کے فضائل تم
گُلوں کے مثلِ ہی کانٹے وہاں مہکے ہوئے سے ہیں
تِرے بغیر کٹے دن نہ شب گزرتی ہے
حیات کس سے کہوں کیسے اب گزرتی ہے
گمان ہوتا ہے مجھ کو تمہارے آنے کا
ہوا ادھر سے دبے پانوں جب گزرتی ہے
ہمارا کیا ہے کسی طور کٹ ہی جائے گی
سکوں سے ان کی تو شامِ طرب گزرتی ہے
عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا
میں چپ رہا تو شکستہ مکان بولے گا
ابھی ہجوم ہے اس کو جلوس بننے دے
تِرے خلاف ہر اک بے زبان بولے گا
ہماری چیخ کبھی بے اثر نہیں ہو گی
زمیں خموش سہی آسمان بولے گا
بے مکاں میرے خواب ہونے لگے
رت جگے بھی عذاب ہونے لگے
حسن کی محفلوں کا وزن بڑھا
جب سے ہم باریاب ہونے لگے
ہے عجب لمس ان کے ہاتھوں کا
سنگریزے گلاب ہونے لگے
تڑپ، چاہت، لگن، دُھن اور جذبہ ہم بھی رکھتے ہیں
ستارے توڑ لانے کی تمنا ہم بھی رکھتے ہیں
تِرے الطاف کی امید مولا ہم بھی رکھتے ہیں
کہ پیشانی پہ نورِ نقشِ سجدہ ہم بھی رکھتے ہیں
تمہاری نرگسی آنکھوں کو دیکھا تو ہوا ظاہر
کہ دل ہی دل میں شغلِ جام و مینا ہم بھی رکھتے ہیں
بھرے تو کیسے پرندہ بھرے اڑان کوئی
نہیں ہے تیر سے خالی یہاں کمان کوئی
تھیں آزمائشیں جتنی تمام مجھ پہ ہوئیں
نہ بچ کے جائے گا اب مجھ سے امتحان کوئی
یہ طوطا مینا کے قصے بہت پرانے ہیں
ہمارے عہد کی اب چھیڑو داستان کوئی