Sunday, 11 July 2021

بے مکاں میرے خواب ہونے لگے

 بے مکاں میرے خواب ہونے لگے

رت جگے بھی عذاب ہونے لگے

حسن کی محفلوں کا وزن بڑھا

جب سے ہم باریاب ہونے لگے

ہے عجب لمس ان کے ہاتھوں کا

سنگریزے گلاب ہونے لگے

اب پگھلنے لگے ہیں پتھر بھی

رابطے کامیاب ہونے لگے

میرا سچ بولنا قیامت تھا

کیسے کیسے عتاب ہونے لگے

ذکر تھا ان کی بے وفائی کا

آپ کیوں آب آب ہونے لگے

پُر سکوں ہجر ساعتیں دیکھوں

وصل لمحے عذاب ہونے لگے

ہم بھی کہنے لگے ہیں رات کو رات

ہم بھی گویا خراب ہونے لگے

کچھ زباں سے نکل گیا تھا یوں ہی

کیوں خفا آں جناب ہونے لگے

اے ذکی مجھ کو مل گئی معراج

میرے شعر انتخاب ہونے لگے


ذکی طارق

No comments:

Post a Comment