Showing posts with label مسرور انور. Show all posts
Showing posts with label مسرور انور. Show all posts

Monday, 17 October 2022

جب پیار میں دو دل ملتے ہیں میں سوچتا ہوں

 گیت


جب پیار میں دو دل ملتے ہیں میں سوچتا ہوں 

ان کا بھی کہیں مجھ سا ہی انجام نہ ہو

ان کا بھی جنوں ناکام نہ ہو


سر رکھ کے میرے شانے پہ بھی

اک گیت کسی نے گایا تھا

وہ گیت میرے جیون بھر کی 

Sunday, 21 August 2022

تو ہی بتا پگلی پون کس کے لیے جلے میرا من

 فلمی گیت


پگلی پون


تُو ہی بتا پگلی پون

کس کے لیے جلے میرا من

مجھ کو ستا کے، چین چُرا کے

کہاں گیا میرا بھولا سجن

تُو ہی بتا پگلی پون

Saturday, 13 August 2022

ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں ہم سب کی ہے پہچان

  ملی/قومی گیت/نغمہ


ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں

ہم سب کی ہے پہچان

ہم سب کا پاکستان، پاکستان، پاکستان

ہم سب کا پاکستان

ہر دل کی افق پر ہے چاند ایک ستارہ ایک

Monday, 30 November 2020

اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے

 فلمی گیت


اک ستم اور میری جاں، ابھی جاں باقی ہے

دل میں اب تک تیری الفت کا نشاں باقی ہے

اک ستم اور میری جاں، ابھی جاں باقی ہے


جرمِ توہینِ محبت کی سزا دے مجھ کو

کچھ تو محرومئ الفت کا صلہ دے مجھ کو

جسم سے روح کا رشتہ نہیں ٹوٹا ہے ابھی

Tuesday, 27 December 2016

مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو

فلمی گیت

مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے

مِری یاد ہو گی، جدھر جاؤ گے تم
کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو

میں جس دن بھلا دوں ترا پیار دل سے

فلمی  گیت

میں جس دن بھلا دوں تِرا پیار دل سے
وہ دن آخری ہو میری زندگی کا
یہ آنکھیں اسی رات ہو جائیں اندھی
جو تیرے سوا دیکھیں سپنا کسی کا

مجھے اپنے دل سے اترنے نہ دینا
میں خوشبو ہوں مجھ کو بکھرنے نہ دینا

Wednesday, 7 December 2016

کرتے ہیں محبت سب ہی مگر ہر دل کو صلہ کب ملتا ہے

گیت

آدھی رات کو یہ دنیا والے، جب خوابوں میں کھو جاتے ہیں 
ایسے میں محبت کے روگی، یادوں کے چراغ جلاتے ہیں

کرتے ہیں محبت سب ہی مگر ہر دل کو صلہ کب ملتا ہے  
آتی ہیں بہاریں گلشن میں، ہر پھول مگر کب کھلتا ہے 
کرتے ہیں محبت سب ہی مگر ہر دل کو صلہ کب ملتا ہے 
کرتے ہیں محبت سب ہی مگر، سب ہی مگر

اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے

گیت

اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے 
ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے 
اک بار ملو ہم سے ۔۔۔۔

ان پیار بھری آنکھوں میں ہم خوشیاں سجائیں 
جن راہوں سے تم گزرو، وہاں پھول بچھائیں 
دیوانے تمہیں ایسے نہ سرکار ملیں گے 

Saturday, 12 November 2016

نیناں ترس کر رہ گئے پیا آئے نہ ساری رات

فلمی گیت

سانجھ کی لالی سلگ سلگ کر بن گئی کالی دھول
آئے نہ بالم بے دردی، میں چنتی رہ گئی پھول

نیناں ترس کر رہ گئے 
پیا آئے نہ ساری رات

ساری رات پلک نہیں جھپکی
ہوا دیتی رہی ہے مجھے تھپکی

وطن کی مٹی گواہ رہنا

ملی نغمہ

وطن کی مٹی گواہ رہنا
وطن کی مٹی عظیم ہے تو
عظیم تر ہم بنا رہے ہیں

تیرے مغنی کی ہر صدا میں
تیری ہی خوشبو مہک رہی ہے
ہر ایک سر میں ہر ایک لے میں

Friday, 21 October 2016

اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے

اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے
وہ سامنے بیٹھے ہیں، کافی یہ عنایت ہے 
مت دیکھ انہیں اے دل! اس طرح محبت سے
افسانہ بنا لیں گے، لوگوں کی تو عادت ہے
گلشن سے جدا ہو کر پھولوں نے یہ جانا ہے
اس دنیا میں ہنسنے کی کتنی بڑی قیمت ہے 

بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا

محبت کی جھوٹی اداؤں پہ صاحب جوانی لٹانے کی کوشش نہ کرنا
بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا
ہنسی آتی ہے اپنی بربادیوں پر نہ یوں پیار سے دیکھیۓ بندہ پرور 
مِرے دل کے زخموں کو نیند آ گئی ہے انہیں تم جگانے کی کوشش نہ کرنا
محبت تو ہے ایک کاغذ کی ناؤ، اُدھر بہتی ہے جس طرف ہو بہاؤ
نظر کے بھنور میں نہ تم ڈوب جاؤ، نگاہیں ملانے کی کوشش نہ کرنا

اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں

نذرِ مجاہد 

اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد مجاہد! تجھے کیا پیش کروں

تُو نے دشمن کو جلا ڈالا ہے شعلہ بن کے
ابھرا ہرگام پہ فتح کا نعرہ بن کے 
اس شجاعت کا کیا میں تجھے صلہ پیش کروں
اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں

Wednesday, 11 December 2013

یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

فلمی گیت

یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
اک روشنی اندھیروں میں بکھرا گیا کوئی

وہ حادثہ، وہ پہلی ملاقات کیا کہوں
کتنی عجب تھی صورتِ حالات کیا کہوں
یوں قہر وہ غضب وہ جفا مجھ کو یاد ہے
وہ اس کی بے رخی کی ادا مجھ کو یاد ہے

Wednesday, 11 July 2012

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پِھر سہی
کس نے توڑا دل ہمارا، یہ کہانی پھر سہی
دل کے لُٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
نام آئے گا تمہارا، یہ کہانی پھر سہی
نفرتوں کے تِیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
ہم نے کِس کِس کو پکارا، یہ کہانی پھر سہی