شباب اس کا
میرے شہر کی غلیظ گلیوں کو صاف کرتے گزر گیا ہے
وہ اب بھی اپنے ضعیف ہاتھوں سے
روز آ کر اٹھا رہا ہے گلی سے کچرا
گلی جو پہلے کبھی تھی کچی
پھر اس کو اینٹیں لگا کے پکا کیا گیا تھا
شباب اس کا
میرے شہر کی غلیظ گلیوں کو صاف کرتے گزر گیا ہے
وہ اب بھی اپنے ضعیف ہاتھوں سے
روز آ کر اٹھا رہا ہے گلی سے کچرا
گلی جو پہلے کبھی تھی کچی
پھر اس کو اینٹیں لگا کے پکا کیا گیا تھا
جو دروازے چناؤ کے دنوں میں کھٹکھٹاتے تھے
قدم جن کے ہماری چوکھٹوں پر ڈگمگاتے تھے
جو اپنے ہاتھ باندھے مانگتے تھے ووٹ کی دولت
جو کہتے تھے؛ ہمیں دے دیجیے بس آخری مہلت
جو ہم کو بھائی کہتے تھے جو ہم کو یار کہتے تھے
تمہارے واسطے ہیں بر سرِ پیکار کہتے تھے
سنو غریبو
سنو کبھی تم
امیر ہونے کا سوچنا مت
یہ مال و دولت بلند و بالا عمارتیں اور گہنے شہنے
بہت برے ہیں
تم ان سے دوری بنائے رکھنا
مری ناراض محبوبہ
تمہارے پیار کی لو سے
ہے روشن زندگی میری
تمہارے حسن کا چرچا
مِری آنکھوں میں رہتا ہے
تمہاری زُلف سے، رُخسار سے
منڈیروں پر کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والو
بلا گھر کے کسی کمرے میں آ کر لیٹ جاتی ہے
خبر تم کو نہیں ہوتی
کہ انجانے میں تم مل کر
بلا کو ہی مسیحا مان لیتے ہو
منڈیروں پر کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والو
انشا جی رکو
انشا جی رکو اب دیکھ ہی لو
اس شہر میں کیا کیا ہوتا ہے
جس شہر کی کچی بستی میں
مہنگائی کا مُجرا جاری ہے
اور خوف دلوں پر طاری ہے
جس شہر کے اکثر لوگوں کے