Showing posts with label احمد نعیم ارشد. Show all posts
Showing posts with label احمد نعیم ارشد. Show all posts

Sunday, 12 March 2023

مسیح اپنے لیے مسیحا بلا رہا ہے

 شباب اس کا

میرے شہر کی غلیظ گلیوں کو صاف کرتے گزر گیا ہے

وہ اب بھی اپنے ضعیف ہاتھوں سے

روز آ کر اٹھا رہا ہے گلی سے کچرا

گلی جو پہلے کبھی تھی کچی

پھر اس کو اینٹیں لگا کے پکا کیا گیا تھا

Thursday, 15 September 2022

جو دروازے چناؤ کے دنوں میں کھٹکھٹاتے تھے

 جو دروازے چناؤ کے دنوں میں کھٹکھٹاتے تھے

قدم جن کے ہماری چوکھٹوں پر ڈگمگاتے تھے

جو اپنے ہاتھ باندھے مانگتے تھے ووٹ کی دولت

جو کہتے تھے؛ ہمیں دے دیجیے بس آخری مہلت

جو ہم کو بھائی کہتے تھے جو ہم کو یار کہتے تھے

تمہارے واسطے ہیں بر سرِ پیکار کہتے تھے

Saturday, 10 September 2022

سنو غریبو سنو کبھی تم امیر ہونے کا سوچنا مت

 سنو غریبو

سنو کبھی تم

امیر ہونے کا سوچنا مت

یہ مال و دولت بلند و بالا عمارتیں اور گہنے شہنے

بہت برے ہیں

تم ان سے دوری بنائے رکھنا

Wednesday, 7 September 2022

مری ناراض محبوبہ تمہارے پیار کی لو سے

 مری ناراض محبوبہ

تمہارے پیار کی لو سے

ہے روشن زندگی میری

تمہارے حسن کا چرچا

مِری آنکھوں میں رہتا ہے

تمہاری زُلف سے، رُخسار سے

Monday, 5 September 2022

منڈیروں پر کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والو

 منڈیروں پر کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والو

بلا گھر کے کسی کمرے میں آ کر لیٹ جاتی ہے

خبر تم کو نہیں ہوتی

کہ انجانے میں تم مل کر 

بلا کو ہی مسیحا مان لیتے ہو

منڈیروں پر کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والو

Monday, 16 November 2020

انشا جی رکو اب دیکھ ہی لو

انشا جی رکو


انشا جی رکو اب دیکھ ہی لو

اس شہر میں کیا کیا ہوتا ہے

جس شہر کی کچی بستی میں

مہنگائی کا مُجرا جاری ہے

اور خوف دلوں پر طاری ہے

جس شہر کے اکثر لوگوں کے