شباب اس کا
میرے شہر کی غلیظ گلیوں کو صاف کرتے گزر گیا ہے
وہ اب بھی اپنے ضعیف ہاتھوں سے
روز آ کر اٹھا رہا ہے گلی سے کچرا
گلی جو پہلے کبھی تھی کچی
پھر اس کو اینٹیں لگا کے پکا کیا گیا تھا
پھر اس پہ پتھر لگا کے اس کو
مزید بہتر کیا گیا تھا
گلی جو کچی تھی اب تو شیشہ دکھائی دیتی ہے دور سے ہی
گلی پہ کتنے ہی دور گزرے
تمام ادوار میں گلی کے نصیب بدلے
مگر وہ اہلِ کتاب جیسا بھی تھا وہیں ہے
گلی کی قسمت گلی میں کُھلتی رہی ہمیشہ
میں سوچتا ہوں کہ جس کی قسمت کی ساری گلیاں
جو ایک عرصے سے بند پڑی ہیں
اسے بھی کوئی سنوار دیتا
اسے بھی تھوڑا سا پیار دیتا
اسے بھی کوئی لگا کے سینے سے
شکریہ ہی ادا تو کرتا
وہ ایک اہلِ کتاب اپنے گلے سڑے سے نصیب لے کر
ہمارے گندے غلیظ ڈبے سے روز کوڑا اٹھا رہا ہے
غلاظتوں کو بہا رہا ہے
مسیح اپنے لیے مسیحا بُلا رہا ہے
احمد نعیم ارشد
No comments:
Post a Comment