جان بچ جائے گی پر یاری چلی جائے گی
سر بچاؤ گے تو سرداری چلی جائے گی
یار ہم سے تو کسی طور یہ جانے کی نہیں
تم ہنسو گے تو یہ بیزاری چلی جائے گی
تجھے آواز لگاتے ہوئے ڈر لگتا ہے
تُو پلٹ آئے گا، خودداری چلی جائے گی
تیرے بیمار دوا کو بھلا کیا جانیں ہیں
تُو جو آئے گا تو بیماری چلی جائے گی
آنکھ لگنے کی سہولت بھی مجھے زحمت ہے
خواب دیکھوں گی تو بیداری چلی جائے گی
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment