Sunday, 12 March 2023

جان بچ جائے گی پر یاری چلی جائے گی

جان بچ جائے گی پر یاری چلی جائے گی

سر بچاؤ گے تو سرداری چلی جائے گی

یار ہم سے تو کسی طور یہ جانے کی نہیں

تم ہنسو گے تو یہ بیزاری چلی جائے گی

تجھے آواز لگاتے ہوئے ڈر لگتا ہے 

تُو پلٹ آئے گا، خودداری چلی جائے گی

تیرے بیمار دوا کو بھلا کیا جانیں ہیں

تُو جو آئے گا تو بیماری چلی جائے گی 

آنکھ لگنے کی سہولت بھی مجھے زحمت ہے

خواب دیکھوں گی تو بیداری چلی جائے گی


مقدس ملک

No comments:

Post a Comment