بیٹھے ہوئے ہیں سوچ میں اظہار کیا کریں
رسوائیوں کا تذکرہ ہر بار کیا کریں
ملتا نہیں مسیحا کوئی مرض عشق کا
اب آپ ہی بتائیے بیمار کیا کریں
اونچی عمارتوں کے ہیں شوقین سب یہاں
ہم سادگی کا شہر میں پرچار کیا کریں
بیٹھے ہوئے ہیں سوچ میں اظہار کیا کریں
رسوائیوں کا تذکرہ ہر بار کیا کریں
ملتا نہیں مسیحا کوئی مرض عشق کا
اب آپ ہی بتائیے بیمار کیا کریں
اونچی عمارتوں کے ہیں شوقین سب یہاں
ہم سادگی کا شہر میں پرچار کیا کریں
جو زخم بھر چکے تھے انہیں پھر ہرا کیا
اس بے وفا کا جب بھی کبھی تذکرہ کیا
کیوں آپ نے بھی راستہ مجھ سے جدا کیا
کیا بات تھی جو آپ نے یہ فیصلہ کیا
ہر ایک نے کہا کہ اسے بھول جاؤں میں
جب دوستوں سے میں نے کبھی مشورہ کیا
شبِ وعدہ اندھیرا چھا گیا کیا تم نہ آؤ گے؟
فلک پر چاند بھی کجلا گیا کیا تم نہ آؤ گے
تمہارا ہجر آفت ڈھا گیا کیا تم نہ آؤ گے
ہمارا دل بہت گھبرا گیا کیا تم نہ آؤ گے
چمن میں ہر طرف گلہائے رنگیں مسکرا اٹھے
بہاروں کا زمانہ آ گیا کیا تم نہ آؤ گے
حمد باری تعالیٰ
جب دین مصطؐفیٰ کا مِرے گھر میں آ گیا
ایمان کا سرور بھی پیکر میں آ گیا
کعبے کو دیکھتے ہی طبیعت بہل گئی
جینے کا حوصلہ دلِ مضطر میں آ گیا
سب کچھ دیا خدا نے، کبھی بھی نہ یہ کہا
"دستک دئیے بغیر مِرے گھر میں آ گیا"
اٹھ کے پہلو سے کیا گیا کوئی
دل کی دھڑکن بڑھا گیا کوئی
ایک ہلچل مچا گیا کوئی
حشر دل میں اٹھا گیا کوئی
چار اشکوں میں چند آہوں میں
اپنی بیتی سنا گیا کوئی
بِنا مطلب کی دنیا میں کوئی کب دل سے ملتا ہے
جو ہر مشکل کا ساتھی ہو بڑی مشکل سے ملتا ہے
ہزاروں وسوسے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں
امیرِ شہر جب جا کر کسی قاتل سے ملتا ہے
کریں بے شک نہ باتیں آپ لیکن بیٹھا رہنے دیں
سکونِ دل ہمیں بس آپ کی محفل سے ملتا ہے
زخمی جگر کو دیکھنے وہ گھر میں آ گیا
کیا خوب یہ کمال ستمگر میں آ گیا
میخوار کیا پئیں گے تری مے کو ساقیا
عکس جمال یار جو ساغر میں آ گیا
دانا سمجھ رہا تھا بہت خود کو میں مگر
اس نے کئے سوال تو چکر میں آ گیا