Showing posts with label اعجاز قریشی. Show all posts
Showing posts with label اعجاز قریشی. Show all posts

Thursday, 2 December 2021

بیٹھے ہوئے ہیں سوچ میں اظہار کیا کریں

 بیٹھے ہوئے ہیں سوچ میں اظہار کیا کریں

رسوائیوں کا تذکرہ ہر بار کیا کریں

ملتا نہیں مسیحا کوئی مرض عشق کا

اب آپ ہی بتائیے بیمار کیا کریں

اونچی عمارتوں کے ہیں شوقین سب یہاں

ہم سادگی کا شہر میں پرچار کیا کریں

Monday, 29 November 2021

جو زخم بھر چکے تھے انہیں پھر ہرا کیا

 جو زخم بھر چکے تھے انہیں پھر ہرا کیا

اس بے وفا کا جب بھی کبھی تذکرہ کیا

کیوں آپ نے بھی راستہ مجھ سے جدا کیا

کیا بات تھی جو آپ نے یہ فیصلہ کیا

ہر ایک نے کہا کہ اسے بھول جاؤں میں

جب دوستوں سے میں نے کبھی مشورہ کیا

Sunday, 28 November 2021

شب وعدہ اندھیرا چھا گیا کیا تم نہ آؤ گے

 شبِ وعدہ اندھیرا چھا گیا کیا تم نہ آؤ گے؟

فلک پر چاند بھی کجلا گیا کیا تم نہ آؤ گے

تمہارا ہجر آفت ڈھا گیا کیا تم نہ آؤ گے

ہمارا دل بہت گھبرا گیا کیا تم نہ آؤ گے

چمن میں ہر طرف گلہائے رنگیں مسکرا اٹھے

بہاروں کا زمانہ آ گیا کیا تم نہ آؤ گے

Friday, 26 November 2021

جب دین مصطفیٰ کا مرے گھر میں آ گیا

 حمد باری تعالیٰ


جب دین مصطؐفیٰ کا مِرے گھر میں آ گیا

ایمان کا سرور بھی پیکر میں آ گیا

کعبے کو دیکھتے ہی طبیعت بہل گئی

جینے کا حوصلہ دلِ مضطر میں آ گیا

سب کچھ دیا خدا نے، کبھی بھی نہ یہ کہا

"دستک دئیے بغیر مِرے گھر میں آ گیا"

Wednesday, 24 November 2021

اٹھ کے پہلو سے کیا گیا کوئی

 اٹھ کے پہلو سے کیا گیا کوئی

دل کی دھڑکن بڑھا گیا کوئی

ایک ہلچل مچا گیا کوئی

حشر دل میں اٹھا گیا کوئی

چار اشکوں میں چند آہوں میں

اپنی بیتی سنا گیا کوئی

Sunday, 29 November 2020

بنا مطلب کی دنیا میں کوئی کب دل سے ملتا ہے

بِنا مطلب کی دنیا میں کوئی کب دل سے ملتا ہے

جو ہر مشکل کا ساتھی ہو بڑی مشکل سے ملتا ہے

ہزاروں وسوسے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں

امیرِ شہر جب جا کر کسی قاتل سے ملتا ہے

کریں بے شک نہ باتیں آپ لیکن بیٹھا رہنے دیں

سکونِ دل ہمیں بس آپ کی محفل سے ملتا ہے

Friday, 20 November 2020

زخمی جگر کو دیکھنے وہ گھر میں آ گیا

 زخمی جگر کو دیکھنے وہ گھر میں آ گیا

کیا خوب یہ کمال ستمگر میں آ گیا

میخوار کیا پئیں گے تری مے کو ساقیا

عکس جمال یار جو ساغر میں آ گیا

دانا سمجھ رہا تھا بہت خود کو میں مگر

اس نے کئے سوال تو چکر میں آ گیا