Showing posts with label خالد علیم. Show all posts
Showing posts with label خالد علیم. Show all posts

Saturday, 30 April 2022

گرفت خاک سے باہر مجھے نکلنے دے

گرفتِ خاک سے باہر مجھے نکلنے دے

اے دشتِ خواب مجھے دو قدم تو چلنے دے

جو ہو سکے مِرے اشکوں کو منجمد مت کر

ہوائے شہرِ خرابی مجھے پگھلنے دے

اے دشتِ شام کی پاگل ہوا بجھا نہ مجھے

نواحِ شب میں کوئی تو چراغ جلنے دے

Friday, 25 January 2013

نقش کچھ اور سرِ خاک ابھارا جائے

نقش کچھ اور سرِ خاک اُبھارا جائے
آسمانوں سے ستاروں کو اُتارا جائے
آ مجھے تُو ہی بتا، وقت ٹھہر جائے تو
دشت تنہائی میں کس طرح گزارا جائے
کشتیاں ڈُوب چکیں اور وہ اس سوچ میں ہے
اب سمندر ہی کنارے پہ اُتارا جائے

Monday, 10 December 2012

خوابیدگی درد کی محرم تو نہیں ہے

خوابیدگی، درد کی محرم تو نہیں ہے
یہ شب ہے، ترا کاکُلِ پُرخم تو نہیں ہے
اِک ابر کی ٹھنڈک میں اسے بھول ہی جائیں
یادوں کی تپش، اتنی بھی مدھم تو نہیں ہے
اس عہد میں وابستگئ موسمِ گُل بھی
اب حلقۂ زنجیر سے کچھ کم تو نہیں ہے

ہم کہ منزل کا تصور نہ نظر میں رکھتے

ہم کہ منزل کا تصوّر نہ نظر میں رکھتے
یہ تو ہوتا کہ تِرا ساتھ سفر میں رکھتے
ہم اسیرانِ جنوں اپنی رہائی کے لیے
عزم پرواز کہاں جنبش پر میں رکھتے
ابرِ گِریہ سے تھی خود چاندنی افسردہ جمال
عکسِ مہتاب کو کیا روزن و در میں رکھتے

اک انتخاب وہ یادوں کے ماہ و سال کا تھا

اِک انتخاب وہ یادوں کے ماہ و سال کا تھا
جو حرفِ ابر زدہ، آنکھ میں ملال کا تھا
شکست آئینۂ جاں پہ سنگ زن رہنا
ہُنر اُسی کا تھا، جتنا بھی تھا، کمال کا تھا
یہ دیکھنا ہے کہ کھل کر بھی بادباں نہ کھلے
تو اس سے کتنا تعلّق ہوا کی چال کا تھا

اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی

اسے کیا خبر، کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی
اسے کیا خبر کہ تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی
کوئی تار تار نگاہ بھی تھی صد آئینہ، اسے کیا خبر
کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی
میں اسیرِ شامِ قفس رہا مگر اے ہوائے دیارِ دل
سرِ طاقِ مطلعِ آفتاب، مِری نگاہ دھری رہی

کسی کی یاد سے ہم بے نیاز ہو جائیں

کسی کی یاد سے، ہم بے نیاز ہو جائیں
مگر یہ ڈر ہے کہیں رتجگے نہ سو جائیں
فضا اُداس، ستارے اُداس، رات اُداس
یہ زندگی ہے تو ہم بھی اُداس ہو جائیں
وہ سیلِ تند سے بچ کر نکل تو آئے ہیں
یہ خوف ہے نہ کنارے کہیں ڈبو جائیں

سیل گریہ ہے کوئی جو رگ جاں کھینچتا ہے

سیلِ گِریہ ہے کوئی، جو رگِ جاں کھینچتا ہے
رنگ چاہت کے وہ آنکھوں پہ کہاں کھینچتا ہے
دل، کہ ہر بار محبت سے لہو ہوتا ہے
دل کو ہر بار یہی کار زیاں کھینچتا ہے
شاید اب کے بھی مِری آنکھ میں تحریر ہے وہ
لمحۂ یاد، کوئی حرفِ گماں کھینچتا ہے

سقف سکوں نہیں تو کیا سر پہ یہ آسماں تو ہے

سقفِ سکوں نہیں تو کیا، سر پہ یہ آسماں تو ہے
سایۂ زلف اگر نہیں، دھوپ کا سائباں تو ہے
آنکھ کے طاق میں وہ ایک، جل اٹھا نجمِ نیم جاں
درد کی رات ہی سہی، کوئی سحر نشاں تو ہے
جاگ رہا ہوں رات سے لذتِ خواب کے لیے
نیند نہیں جو آنکھ میں جوئے شب رواں تو ہے

یہ حکم ہے کہ غم کشتگاں نہ رکھا جائے

یہ حکم ہے کہ غمِ کشتگاں نہ رکھا جائے
بچے ہوؤں کا بھی کوئی گماں نہ رکھا جائے
جو فیصلہ ہی ہمارے خلاف ہونا ہے
تو فیصلے میں ہمارا بیاں نہ رکھا جائے
ہمارے ہاتھ ستاروں پہ پڑنے لگتے ہیں
ہمیں اسیر شبِ درمیاں نہ رکھا جائے

کیا ضروری ہے وہ ہمرنگ نوا بھی ہو جائے

کیا ضروری ہے وہ ہمرنگِ نوا بھی ہو جائے
تم جدھر چاہو، اُدھر کو یہ ہوا بھی ہو جائے
اپنے پر نوچ رہا ہے، تِرا زندانئ دل
اسے ممکن ہے رہائی کی سزا بھی ہو جائے
دل کا دامانِ دریدہ نہیں سلِتا، تو میاں
بھاڑ میں جائے اگر چاک رِدا بھی ہو جائے

دامن چاک ہی اے ہم نفساں ایسا تھا

دامنِ چاک ہی اے ہم نفساں ایسا تھا
رات ایسی تھی کہاں، چاند کہاں ایسا تھا
ہم ہواؤں کو لیے پھرتے تھے زنجیر بکف
رات اس دشت کی وحشت پہ گماں ایسا تھا
دل کہاں بوجھ اُٹھاتا شب تنہائی کا
یہ تِرا قربِ جدائی مری جاں ایسا تھا

Saturday, 8 December 2012

بے تعلق میں خود اپنے ہی گھرانے سے ہوا

بے تعلق میں خود اپنے ہی گھرانے سے ہوا
اور یہ سانحہ، دیوار اُٹھانے سے ہوا
میری مٹّی تھی کہاں کی، تو کہاں لائی گئی
بے زمیں میں جو ہوا بھی تو ٹھکانے سے ہوا
کام جتنا تھا محبت کا، محبت نے کیا
جتنا ہونا تھا زمانے سے، زمانے سے ہوا

شہر میں جب غنچہ دہنی گل پیرہنی مقبول ہوئی

شہر میں جب غُنچہ دہنی، گُل پیرہنی، مقبول ہوئی
زُہرہ جبینوں، ماہ وشوں کو بے مہری معمول ہوئی
دلزدگاں کی بات ہی کیا ہے، دلزدگاں کی بات نہ کر
رات کا قصّہ ختم ہوا جب ان کی حکایت طول ہوئی
ہجر کی رُت سوغات بنی، ہم سوختگاں کی بات بنی
جلتے جلتے جل گئے اتنا، راکھ بھی آخر دھول ہوئی

ہم ہی ممکن ہے ترے ناز اٹھانے لگ جائیں

ہم ہی، ممکن ہے تِرے ناز اٹھانے لگ جائیں
پہلے یہ زخم پرانے تو ٹھکانے لگ جائیں
تیرے آوارہ، چلو ہم ہی رہیں گے، لیکن
یہ نہ ہو، تجھ کو بھلانے میں زمانے لگ جائیں
روک لو اپنے سلگتے ہوئے جذبوں کے شرار
اس سے پہلے کہ کوئی حشر اٹھانے لگ جائیں

Wednesday, 11 July 2012

اگر یہ رات نہ اپنے دیے بجھایا کرے

اگر یہ رات نہ اپنے دِیے بجھایا کرے
تو کیسے کوئی حساب غمِ بقایا کرے
وہ ایک عکس گماں ہے تو دل سے دور رہے
وہ خواب ہے تو مِری آنکھ میں نہ آیا کرے
اسے کہو، ہمیں بے چارگی کی خو ہے مگر
ہمارے ظرف کو اتنا نہ آزمایا کرے