گرفتِ خاک سے باہر مجھے نکلنے دے
اے دشتِ خواب مجھے دو قدم تو چلنے دے
جو ہو سکے مِرے اشکوں کو منجمد مت کر
ہوائے شہرِ خرابی مجھے پگھلنے دے
اے دشتِ شام کی پاگل ہوا بجھا نہ مجھے
نواحِ شب میں کوئی تو چراغ جلنے دے
گرفتِ خاک سے باہر مجھے نکلنے دے
اے دشتِ خواب مجھے دو قدم تو چلنے دے
جو ہو سکے مِرے اشکوں کو منجمد مت کر
ہوائے شہرِ خرابی مجھے پگھلنے دے
اے دشتِ شام کی پاگل ہوا بجھا نہ مجھے
نواحِ شب میں کوئی تو چراغ جلنے دے