Showing posts with label حارث جمیل. Show all posts
Showing posts with label حارث جمیل. Show all posts

Monday, 27 March 2023

سبھی پہ یکساں کھلے شرطیہ نہیں ہوتا

 سبھی پہ یکساں کُھلے شرطیہ نہیں ہوتا 

کسی بھی شعر کا اک زاویہ نہیں ہوتا 

اکیلے پن کی سیاحت بھی کارِ وحشت ہے 

کہ دشت کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا

مِرا سلوک برابر ہے خاص و عام کے ساتھ

مِرے ورق پہ کہِیں حاشیہ نہیں ہوتا

Thursday, 23 February 2023

یہاں جو مسجد ہے کون سی ہے خدا کی مسجد

 یہاں جو مسجد ہے کون سی ہے خدا کی مسجد

بس آج کل تو علامتی ہے خدا کی مسجد

یہ سجدہ گاہیں نہیں ہیں ڈیرے ہیں مسلکوں کے

ہر اک طرف سے گھری ہوئی ہے خدا کی مسجد

یہ کون ہیں جو فروغ دیتے ہیں نفرتوں کو

خدا کی مسجد سے لڑ رہی ہے خدا کی مسجد

Monday, 11 October 2021

یہ کن لمحات میں بیٹھے ہوئے ہیں

 یہ کن لمحات میں بیٹھے ہوئے ہیں

شکاری گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں 

بڑھا کر ہاتھ اس کو چُھو تو لیں ہم 

مگر اوقات میں بیٹھے ہوئے ہیں 

مِرا کیا ہے، چلا جاؤں گا میں تو

مگر جو ساتھ میں بیٹھے ہوئے ہیں

Sunday, 10 October 2021

اب ایسا لگتا ہے دھوکے سے دسترس لی ہو

 اب ایسا لگتا ہے دھوکے سے دسترس لی ہو

تباہ کرنے پہ پھر تو کمر ہی کس لی ہو

کئی ملیں گے غلط شجرۂ نسب والے

رہے گا ساتھ ہمیشہ جو پورا نسلی ہو

کسی نے دیکھ مجھے اس طرح کیا برباد

کہ پھول توڑا بھی ہو، پنکھڑی بھی مسلی ہو

Saturday, 9 October 2021

کاوش سہل کا امکان کہاں سوجھتا ہے

 کاوشِ سہل کا اِمکان کہاں سُوجھتا ہے

کام کوئی مجھے آسان کہاں سوجھتا ہے

باندھ لی بے سر و سامانی سفر میں ورنہ

ایسی عُجلت ہو تو سامان کہاں سوجھتا ہے

سامنے کون ہے، طغیانی کہاں دیکھتی ہے

اس قدر رنج میں نقصان کہاں سوجھتا ہے

Saturday, 18 September 2021

سخنوری میں سخنور بھی مجھ سے ایسے جلے

 سخنوری میں سخنور بھی مجھ سے ایسے جلے

کہ جس طرح کوئی میکش پرانی مے سے جلے

کسی کے ساتھ جو دیکھا اسے، بھر آئی آنکھ

نمی تھی پھر بھی بہرحال جیسے تیسے جلے

ہر ایک چیز کا اپنا علاقہ ہوتا ہے

اب اتنی روشنی میں یہ چراغ کیسے جلے

Wednesday, 16 June 2021

ہر ایک شخص یہاں مبتلائے حیرت ہے

 ہر ایک شخص یہاں مبتلائے حیرت ہے

جو آگہی میں ہے وہ ماورائے حیرت ہے

سُنا ہے آج بھی وہ مجھ کو یاد کرتا ہے

پر اس خبر میں خوشی کے بجائے حیرت ہے

مِرے سکھائے بھی شامل ہیں نقطہ چینوں میں

کہ بڑھ گئے ہیں مِرے قد سے سائے حیرت ہے