سبھی پہ یکساں کُھلے شرطیہ نہیں ہوتا
کسی بھی شعر کا اک زاویہ نہیں ہوتا
اکیلے پن کی سیاحت بھی کارِ وحشت ہے
کہ دشت کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا
مِرا سلوک برابر ہے خاص و عام کے ساتھ
مِرے ورق پہ کہِیں حاشیہ نہیں ہوتا
سبھی پہ یکساں کُھلے شرطیہ نہیں ہوتا
کسی بھی شعر کا اک زاویہ نہیں ہوتا
اکیلے پن کی سیاحت بھی کارِ وحشت ہے
کہ دشت کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا
مِرا سلوک برابر ہے خاص و عام کے ساتھ
مِرے ورق پہ کہِیں حاشیہ نہیں ہوتا
یہاں جو مسجد ہے کون سی ہے خدا کی مسجد
بس آج کل تو علامتی ہے خدا کی مسجد
یہ سجدہ گاہیں نہیں ہیں ڈیرے ہیں مسلکوں کے
ہر اک طرف سے گھری ہوئی ہے خدا کی مسجد
یہ کون ہیں جو فروغ دیتے ہیں نفرتوں کو
خدا کی مسجد سے لڑ رہی ہے خدا کی مسجد
یہ کن لمحات میں بیٹھے ہوئے ہیں
شکاری گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں
بڑھا کر ہاتھ اس کو چُھو تو لیں ہم
مگر اوقات میں بیٹھے ہوئے ہیں
مِرا کیا ہے، چلا جاؤں گا میں تو
مگر جو ساتھ میں بیٹھے ہوئے ہیں
اب ایسا لگتا ہے دھوکے سے دسترس لی ہو
تباہ کرنے پہ پھر تو کمر ہی کس لی ہو
کئی ملیں گے غلط شجرۂ نسب والے
رہے گا ساتھ ہمیشہ جو پورا نسلی ہو
کسی نے دیکھ مجھے اس طرح کیا برباد
کہ پھول توڑا بھی ہو، پنکھڑی بھی مسلی ہو
کاوشِ سہل کا اِمکان کہاں سُوجھتا ہے
کام کوئی مجھے آسان کہاں سوجھتا ہے
باندھ لی بے سر و سامانی سفر میں ورنہ
ایسی عُجلت ہو تو سامان کہاں سوجھتا ہے
سامنے کون ہے، طغیانی کہاں دیکھتی ہے
اس قدر رنج میں نقصان کہاں سوجھتا ہے
سخنوری میں سخنور بھی مجھ سے ایسے جلے
کہ جس طرح کوئی میکش پرانی مے سے جلے
کسی کے ساتھ جو دیکھا اسے، بھر آئی آنکھ
نمی تھی پھر بھی بہرحال جیسے تیسے جلے
ہر ایک چیز کا اپنا علاقہ ہوتا ہے
اب اتنی روشنی میں یہ چراغ کیسے جلے
ہر ایک شخص یہاں مبتلائے حیرت ہے
جو آگہی میں ہے وہ ماورائے حیرت ہے
سُنا ہے آج بھی وہ مجھ کو یاد کرتا ہے
پر اس خبر میں خوشی کے بجائے حیرت ہے
مِرے سکھائے بھی شامل ہیں نقطہ چینوں میں
کہ بڑھ گئے ہیں مِرے قد سے سائے حیرت ہے