نکلی جو دعا دل سے، گئی جانب افلاک
پھر خود ہی ہوئی ظلم اور باطل کی قبا چاک
کس طرح خد و خال تراشے یہ حُسن کا
کیا اس کے تصور میں ہے کمہار کا وہ چاک
اب موسمِ گُل میں ہے پُھوٹی کون سی وبا
اب مرحلۂ شوق کی حالت ہے کربناک
نکلی جو دعا دل سے، گئی جانب افلاک
پھر خود ہی ہوئی ظلم اور باطل کی قبا چاک
کس طرح خد و خال تراشے یہ حُسن کا
کیا اس کے تصور میں ہے کمہار کا وہ چاک
اب موسمِ گُل میں ہے پُھوٹی کون سی وبا
اب مرحلۂ شوق کی حالت ہے کربناک
حرف نور
ہونٹوں کے گلاب جب بھی
کھلا کرتے
ادا ہوتے تھے جو الفاظ
میں ان کو چوم لیتا تھا
پتہ ہے
نگاہ کے اس پار
وہ ایک منظر میرے ذہن سے پرے خدا نے
جہانِ نو کی ذہین نسلیں جہاں ہیں زندہ
قدم قدم پر گلاب🌹 بستی
چنار سائے
نیلے نیلے پانیوں کے تھرکتے نغمے
عارفانہ کلام حمدیہ کلام دعائیہ کلام
اے ربِ ذوالجلال فقط ایک نظر دیکھ
انسانیت کیوں ہو گئی ہے زیر و زبر دیکھ
شامل ہے میری ذات کسی ایک گناہ میں
دل پر لیا نہیں ہے کوئی غم نہ اثر دیکھ
پھر رقصِ کائنات پر آے نہ کوئی آنچ
پھر وادئ حیات میں گمراہ ہے بشر دیکھ
تمہارے نام
یہ شام گیسو، گلاب صبحیں
تمہارا طرزِ ادا غضب ہے
مجھے بتا دے اے میرے ہمدم
خدا کی بارش تیری نوازش
یہ لہلہاہٹ ہمارے گرد و نواح میں ہے جو