Showing posts with label فاروق شاہین. Show all posts
Showing posts with label فاروق شاہین. Show all posts

Thursday, 13 October 2022

نکلی جو دعا دل سے گئی جانب افلاک

 نکلی جو دعا دل سے، گئی جانب افلاک

پھر خود ہی ہوئی ظلم اور باطل کی قبا چاک

کس طرح خد و خال تراشے یہ حُسن کا

کیا اس کے تصور میں ہے کمہار کا وہ چاک

اب موسمِ گُل میں ہے پُھوٹی کون سی وبا

اب مرحلۂ شوق کی حالت ہے کربناک

Sunday, 11 September 2022

ہونٹوں کے گلاب جب بھی کھلا کرتے

 حرف نور


ہونٹوں کے گلاب جب بھی

کھلا کرتے

ادا ہوتے تھے جو الفاظ

میں ان کو چوم لیتا تھا

پتہ ہے

Sunday, 4 September 2022

نگاہ کے اس پار وہ ایک منظر میرے ذہن سے پرے

 نگاہ کے اس پار


وہ ایک منظر میرے ذہن سے پرے خدا نے

جہانِ نو کی ذہین نسلیں جہاں ہیں زندہ

قدم قدم پر گلاب🌹 بستی

چنار سائے

نیلے نیلے پانیوں کے تھرکتے نغمے

Wednesday, 31 August 2022

اے رب ذوالجلال فقط ایک نظر دیکھ

 عارفانہ کلام حمدیہ کلام دعائیہ کلام


اے ربِ ذوالجلال فقط ایک نظر دیکھ

انسانیت کیوں ہو گئی ہے زیر و زبر دیکھ

شامل ہے میری ذات کسی ایک گناہ میں

دل پر لیا نہیں ہے کوئی غم نہ اثر دیکھ

پھر رقصِ کائنات پر آے نہ کوئی آنچ

پھر وادئ حیات میں گمراہ ہے بشر دیکھ

Tuesday, 30 August 2022

تمہارے نام یہ شام گیسو گلاب صبحیں

 تمہارے نام


یہ شام گیسو، گلاب صبحیں

تمہارا طرزِ ادا غضب ہے

مجھے بتا دے اے میرے ہمدم

خدا کی بارش تیری نوازش

یہ لہلہاہٹ ہمارے گرد و نواح میں ہے جو