بھول پائے نہ تجھے آج بھی رونے والے
تو کہاں ہے مِری آنکھوں کو بھگونے والے
ہم کسی غیر کے ہو جائیں یہ ممکن ہی نہیں
اور تم تو کبھی اپنے نہیں ہونے والے
سوچتے ہیں کہ کہاں جا کے تلاشیں ان کو
ہم کو کچھ دوست ملے تھے کبھی کھونے والے
بھول پائے نہ تجھے آج بھی رونے والے
تو کہاں ہے مِری آنکھوں کو بھگونے والے
ہم کسی غیر کے ہو جائیں یہ ممکن ہی نہیں
اور تم تو کبھی اپنے نہیں ہونے والے
سوچتے ہیں کہ کہاں جا کے تلاشیں ان کو
ہم کو کچھ دوست ملے تھے کبھی کھونے والے
ہم بھی گزر گئے یہاں کچھ پل گزار کے
راتیں تھیں قرض کی یہاں دن تھے ادھار کے
جیسے پرانا ہار تھا رشتہ تِرا مِرا
اچھا کیا جو رکھ دیا تُو نے اتار کے
دل میں ہزار درد ہوں آنسو چھپا کے رکھ
کوئی تو کاروبار ہو بِن اشتہار کے
اک بند ہو گیا ہے تو کھولیں گے باب اور
ابھریں گے اپنی رات سے سو آفتاب اور
روحِ بشر غلام ہے کوئی بھی ہو نظام
اب بھی جہاں کو چاہئے کچھ انقلاب اور
جب بھی بڑھی ہے تشنگی ملک و عوام کی
چھلکی ہے قصرِ شاہ میں تھوڑی شراب اور
بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں
پہلے سے راکھ راکھ ہوں پھر بھی کوئی بجھائے کیوں
عیسیٰ نہ وہ نبی کوئی ادنیٰ سا آدمی کوئی
پھر بھی صلیب درد کو سر پہ کوئی اٹھائے کیوں
سارے جو غمگسار تھے کب کے رقیب بن چکے
ایسے میں دوستوں کوئی اپنا یہ غم سنائے کیوں
جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں
جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں
حادثے جان تو لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے
حادثے ہی ہمیں جینا بھی سکھا دیتے ہیں
رات آئی تو تڑپتے ہیں چراغوں کے لیے
صبح ہوتے ہی جنہیں لوگ بجھا دیتے ہیں
وہ جو پھول تھے تِری یاد کے تہِ دستِ خار چلے گئے
تِرے شہر میں بھی سکون ہے تِرے بے قرار چلے گئے
نہ وہ اشک اب نہ وہ آبلے، نہ وہ چیختی ہوئی دھڑکنیں
مِری ذات سے تِرے درد کے سبھی اشتہار چلے گئے
نہ وہ یاد ہے نہ وہ ہجر ہے، نہ نگاہِ ناز کا ذکر ہے
مِرے ذہن سے تِری فکر کے سبھی روزگار چلے گئے