Showing posts with label اجے سحاب. Show all posts
Showing posts with label اجے سحاب. Show all posts

Tuesday, 14 September 2021

بھول پائے نہ تجھے آج بھی رونے والے

 بھول پائے نہ تجھے آج بھی رونے والے

تو کہاں ہے مِری آنکھوں کو بھگونے والے

ہم کسی غیر کے ہو جائیں یہ ممکن ہی نہیں

اور تم تو کبھی اپنے نہیں ہونے والے

سوچتے ہیں کہ کہاں جا کے تلاشیں ان کو

ہم کو کچھ دوست ملے تھے کبھی کھونے والے

Saturday, 4 September 2021

ہم بھی گزر گئے یہاں کچھ پل گزار کے

 ہم بھی گزر گئے یہاں کچھ پل گزار کے

راتیں تھیں قرض کی یہاں دن تھے ادھار کے

جیسے پرانا ہار تھا رشتہ تِرا مِرا

اچھا کیا جو رکھ دیا تُو نے اتار کے

دل میں ہزار درد ہوں آنسو چھپا کے رکھ

کوئی تو کاروبار ہو بِن اشتہار کے

Tuesday, 31 August 2021

اک بند ہو گیا ہے تو کھولیں گے باب اور

 اک بند ہو گیا ہے تو کھولیں گے باب اور

ابھریں گے اپنی رات سے سو آفتاب اور

روحِ بشر غلام ہے کوئی بھی ہو نظام

اب بھی جہاں کو چاہئے کچھ انقلاب اور

جب بھی بڑھی ہے تشنگی ملک‌ و عوام کی

چھلکی ہے قصرِ شاہ میں تھوڑی شراب اور

Monday, 30 August 2021

بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں

 بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں

پہلے سے راکھ راکھ ہوں پھر بھی کوئی بجھائے کیوں

عیسیٰ نہ وہ نبی کوئی ادنیٰ سا آدمی کوئی

پھر بھی صلیب درد کو سر پہ کوئی اٹھائے کیوں

سارے جو غمگسار تھے کب کے رقیب بن چکے

ایسے میں دوستوں کوئی اپنا یہ غم سنائے کیوں

جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں

 جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں

جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں

حادثے جان تو لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے

حادثے ہی ہمیں جینا بھی سکھا دیتے ہیں

رات آئی تو تڑپتے ہیں چراغوں کے لیے

صبح ہوتے ہی جنہیں لوگ بجھا دیتے ہیں

Tuesday, 3 August 2021

وہ جو پھول تھے تری یاد کے تہ دست خار چلے گئے

 وہ جو پھول تھے تِری یاد کے تہِ دستِ خار چلے گئے

تِرے شہر میں بھی سکون ہے تِرے بے قرار چلے گئے

نہ وہ اشک اب نہ وہ آبلے، نہ وہ چیختی ہوئی دھڑکنیں

مِری ذات سے تِرے درد کے سبھی اشتہار چلے گئے

نہ وہ یاد ہے نہ وہ ہجر ہے، نہ نگاہِ ناز کا ذکر ہے

مِرے ذہن سے تِری فکر کے سبھی روزگار چلے گئے