یروشلم ہے کہ راہِ غم ہے
میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطین آباد
یروشلم ہے کہ راہِ غم ہے
مقامِ گِریہ، مقامِ مصلوبیت سے بابِ مغاربہ تک
سبھی کے رُوح و بدن شکستہ
سبھی کی پیشانیاں ہیں زخمی
بجائے مرہم، مگر زمانوں کے تن بدن پر
یروشلم ہے کہ راہِ غم ہے
میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطین آباد
یروشلم ہے کہ راہِ غم ہے
مقامِ گِریہ، مقامِ مصلوبیت سے بابِ مغاربہ تک
سبھی کے رُوح و بدن شکستہ
سبھی کی پیشانیاں ہیں زخمی
بجائے مرہم، مگر زمانوں کے تن بدن پر
ستم ستم ہی رہیں گے، کرم نہیں ہوں گے
غزل میں ہم سے قصیدے رقم نہیں ہوں گے
تھے اپنے ساتھ خرد نام کے بزرگ کوئی
خدا کا شکر کہ اب محترم نہیں ہوں گے
تمہارے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی قسم
بچھڑ گئے تو کسی کے بھی ہم نہیں ہوں گے
سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے
خیال اسی کے تھے سو سو طرح سے باندھ لیے
وہ بن سنور کے نکلتی تو چھیڑتی تھی صبا
پھر اس نے بال ہی اپنے صبا سے باندھ لیے
ملے بغیر وہ ہم سے بچھڑ نہ جائے کہیں
یہ وسوسے بھی دلِ مبتلا سے باندھ لیے
داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں گے
عمر بوڑھی ہو تو ہو ہم نوجواں رہ جائیں گے
شام ہوتے ہی گھروں کو لوٹ جانا ہے ہمیں
ساحلوں پر صرف قدموں کے نشاں رہ جائیں گے
ہم کسی کے دل میں رہنا چاہتے تھے اس طرح
جس طرح اب گفتگو کے درمیاں رہ جائیں گے
تم نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
ورنہ چہرے بھی مہ و سال بتا دیتے ہیں
روح کا حال بھی اے کاش بتائے کوئی
دل کی حالت تو خد و خال بتا دیتے ہیں
اب مراسم بھی بساطوں پہ سجے مہرے ہیں
کون سی کس نے چلی چال بتا دیتے ہیں
میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہے
مِرے بدن کے کفن میں یہ لاش کس کی ہے
تجھے خیال میں لا کر گل و نجوم کے ساتھ
یہ دیکھنا ہے کہ اچھی تراش کس کی ہے
خیال و خواب کی گلیوں میں بھی ہے ویرانی
مِری اداس نظر کو تلاش کس کی ہے
تم نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
ورنہ چہرے بھی مہ و سال بتا دیتے ہیں
روح کا حال بھی اے کاش بتائے کوئی
دل کی حالت تو خد و خال بتا دیتے ہیں
اب مراسم بھی بساطوں پہ سجے مہرے ہیں
کون سی کس نے چلی چال بتا دیتے ہیں
درختوں کے لیے
اے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گا
اور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گے
ایسے عالم میں بہت پیشکشیں ہوں گی تمہیں
تم مگر اپنی روایت سے نہ پھِرنا ہرگز
شاہ کی کرسی میں ڈھلنے سے کہیں بہتر ہے
کسی فٹ پاتھ کے ہوٹل کا وہ ٹوٹا ہوا تختہ بننا
سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے
تِری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے
دل و نظر میں ہزار اختلاف ہوں لیکن
جو عشق ہے تو پھر ان کو بہم بھی رکھنا ہے
بچھڑنے ملنے کے معنی جدا جدا کیوں ہیں
ہر ایک بار جب آنکھوں کو نم بھی رکھنا ہے
گزرتی ہے جو دل پر وہ کہانی یاد رکھتا ہوں
میں ہر گلرنگ چہرے کو زبانی یاد رکھتا ہوں
میں اکثر کھو سا جاتا ہوں گلی کوچوں کے جنگل میں
مگر پھر بھی تِرے گھر کی نشانی یاد رکھتا ہوں
مجھے اچھے برے سے کوئی نسبت ہے تو اتنی ہے
کہ ہر نا مہرباں کی مہربانی یاد رکھتا ہوں