Showing posts with label فاضل جمیلی. Show all posts
Showing posts with label فاضل جمیلی. Show all posts

Wednesday, 25 September 2024

یروشلم ہے کہ راہ غم ہے

 یروشلم ہے کہ راہِ غم ہے


میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطین آباد

یروشلم ہے کہ راہِ غم ہے

مقامِ گِریہ، مقامِ مصلوبیت سے بابِ مغاربہ تک

سبھی کے رُوح و بدن شکستہ

سبھی کی پیشانیاں ہیں زخمی

بجائے مرہم، مگر زمانوں کے تن بدن پر

Wednesday, 21 December 2022

ستم ستم ہی رہیں گے کرم نہیں ہوں گے

 ستم ستم ہی رہیں گے، کرم نہیں ہوں گے

غزل میں ہم سے قصیدے رقم نہیں ہوں گے 

تھے اپنے ساتھ خرد نام کے بزرگ کوئی

خدا کا شکر کہ اب محترم نہیں ہوں گے 

تمہارے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی قسم

بچھڑ گئے تو کسی کے بھی ہم نہیں ہوں گے

Saturday, 11 June 2022

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

 سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

خیال اسی کے تھے سو سو طرح سے باندھ لیے

وہ بن سنور کے نکلتی تو چھیڑتی تھی صبا

پھر اس نے بال ہی اپنے صبا سے باندھ لیے

ملے بغیر وہ ہم سے بچھڑ نہ جائے کہیں

یہ وسوسے بھی دلِ مبتلا سے باندھ لیے

Friday, 18 March 2022

داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں گے

 داستانوں میں ملے تھے داستاں رہ جائیں گے

عمر بوڑھی ہو تو ہو ہم نوجواں رہ جائیں گے

شام ہوتے ہی گھروں کو لوٹ جانا ہے ہمیں

ساحلوں پر صرف قدموں کے نشاں رہ جائیں گے

ہم کسی کے دل میں رہنا چاہتے تھے اس طرح

جس طرح اب گفتگو کے درمیاں رہ جائیں گے

Sunday, 30 January 2022

تم نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں

 تم نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں 

ورنہ چہرے بھی مہ و سال بتا دیتے ہیں 

روح کا حال بھی اے کاش بتائے کوئی 

دل کی حالت تو خد و خال بتا دیتے ہیں 

اب مراسم بھی بساطوں پہ سجے مہرے ہیں 

کون سی کس نے چلی چال بتا دیتے ہیں 

Thursday, 27 January 2022

میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہے

 میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہے

مِرے بدن کے کفن میں یہ لاش کس کی ہے

تجھے خیال میں لا کر گل و نجوم کے ساتھ

یہ دیکھنا ہے کہ اچھی تراش کس کی ہے

خیال و خواب کی گلیوں میں بھی ہے ویرانی

مِری اداس نظر کو تلاش کس کی ہے

Thursday, 9 September 2021

تم نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں

 تم نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں

ورنہ چہرے بھی مہ و سال بتا دیتے ہیں

روح کا حال بھی اے کاش بتائے کوئی

دل کی حالت تو خد و خال بتا دیتے ہیں

اب مراسم بھی بساطوں پہ سجے مہرے ہیں

کون سی کس نے چلی چال بتا دیتے ہیں

Wednesday, 17 February 2021

اے درختو تمہیں جب کاٹ دیا جائے گا

 درختوں کے لیے


اے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گا

اور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گے

ایسے عالم میں بہت پیشکشیں ہوں گی تمہیں

تم مگر اپنی روایت سے نہ پھِرنا ہرگز

شاہ کی کرسی میں ڈھلنے سے کہیں بہتر ہے

کسی فٹ پاتھ کے ہوٹل کا وہ ٹوٹا ہوا تختہ بننا

Monday, 1 February 2021

سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے

 سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے

تِری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے 

دل و نظر میں ہزار اختلاف ہوں لیکن 

جو عشق ہے تو پھر ان کو بہم بھی رکھنا ہے

بچھڑنے ملنے کے معنی جدا جدا کیوں ہیں

ہر ایک بار جب آنکھوں کو نم بھی رکھنا ہے

Monday, 12 October 2020

گزرتی ہے جو دل پر وہ کہانی یاد رکھتا ہوں

 گزرتی ہے جو دل پر وہ کہانی یاد رکھتا ہوں

میں ہر گلرنگ چہرے کو زبانی یاد رکھتا ہوں

میں اکثر کھو سا جاتا ہوں گلی کوچوں کے جنگل میں

مگر پھر بھی تِرے گھر کی نشانی یاد رکھتا ہوں

مجھے اچھے برے سے کوئی نسبت ہے تو اتنی ہے

کہ ہر نا مہرباں کی مہربانی یاد رکھتا ہوں

Tuesday, 4 August 2020

ملنے کا بھی آخر کوئی امکان بناتے

ملنے کا بھی آخر کوئی امکان بناتے
مشکل تھی اگر کوئی تو آسان بناتے
رکھتے کہیں کھڑکی، کہیں گلدان بناتے
دیوار جہاں ہے، وہاں دالان بناتے
تھوڑی ہے بہت ایک مسافت کو یہ دنیا
کچھ اور سفر کا سر و سامان بناتے

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

مِرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا
میں اک حصار تھا، تنہائیوں نے توڑ دیا
بہم جو محفلِ اغیار میں رہے تھے کبھی
یہ سلسلہ بھی شناسائیوں نے توڑ دیا
بس ایک ربط نشانی تھا اپنے پُرکھوں کی
اسے بھی آج مِرے بھائیوں نے توڑ دیا

بے رنگ بہاروں کا سبب فیض سے پوچھو

ناپید ہے کیوں سرخئ لب فیض سے پوچھو
بے رنگ بہاروں کا سبب، فیض سے پوچھو
جس حسن کے مشتاق ہو، وہ حسن سرِ راہ
مل جائے تو اندازِ طلب فیض سے پوچھو
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرنے سے پہلے
اس لعلِ بدخشاں کے غضب فیض سے پوچھو

اپنے ہونے کے جو آثار بنانے ہیں مجھے

اپنے ہونے کے جو آثار بنانے ہیں مجھے
جانے کتنے 'در' و 'دیوار' بنانے ہیں مجھے؟
خود کو رکھنا بھی نہیں جنس گراں کی صورت
بکنے والوں کے بھی معیار بنانے ہیں مجھے
تیرے قدموں میں بچھانے ہیں زمینی رستے
اور، اپنے لیے کہسار بنانے ہیں مجھے

Monday, 20 July 2020

اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے

اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے 
اس کی تصویر ہے پانی میں نہ رکھی جائے 
ایک ہی دل میں ٹھہر جائیں ہمیشہ کے لیے 
زندگی" نقل "مکانی" میں نہ رکھی جائے" 
زندہ رکھنا ہو محبت میں جو "کردار" مِرا 
ساعتِ وصل کہانی میں نہ رکھی جائے 

شوقین مزاجوں کے رنگین طبیعت کے

شوقین مزاجوں کے رنگین طبیعت کے
وہ" لوگ بلا لاؤ "نمکین طبیعت" کے"
دکھ درد کے پیڑوں پر اب کے جو بہار آئی
پھل پھول بھی آئے ہیں غمگین طبیعت کے
خیرات "محبت" کی پھر بھی نہ ملی ہم کو
ہم لاکھ نظر آئے "مسکین" طبیعت کے

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے
خیال اسی کے تھے سو سو طرح سے باندھ لیے
وہ بن سنور کے نکلتی تو چھیڑتی تھی صبا
پھر اس نے بال ہی اپنے صبا سے باندھ لیے
ملے" بغیر وہ ہم سے بچھڑ نہ جائے کہیں"
یہ وسوسے بھی دلِ مبتلا سے باندھ لیے

یہ محبت کہیں الفاظ کی ورزش تو نہیں

میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کی لرزش تو نہیں 
یہ جو آنکھوں میں چمک ہے کوئی خواہش تو نہیں 
رنگ ملبوس ہوئے، لمس ہوئی ہے خوشبو 
آج پھر شہر میں پھولوں کی نمائش تو نہیں 
ایک ہی سانس میں دہرائے چلے جاتے ہیں 
یہ محبت کہیں الفاظ کی ورزش تو نہیں 

Saturday, 6 August 2016

گڑیا سی لگ رہی تھی وہ نیلے فراک میں

گڑیا سی لگ رہی تھی وہ نیلے فراک میں
دیکھا تھا اس کو میں نے کسی کیٹ واک میں
لگتا نہیں ہے اپنے محلے میں دل کہیں
رہنے لگے ہیں جب سے وہ اگلے بلاک میں
بیٹھا ہوا ہوں اب بھی سمندر پہ اس جگہ
روحیں جب اپنی ایک تھیں ہونٹوں کے لاک میں

کبھی نہ رونے کی خود کو تلقین کر رہا ہوں

کبھی نہ رونے کی خود کو تلقین کر رہا ہوں
میں اپنے اشکوں کی آج تدفین کر رہا ہوں
کبھی محبت کی بھیک لگتی ہے نیک نامی
کبھی یہ لگتا ہے اپنی توہین کر رہا ہوں
مجھے بھی ساقی اب احتیاجِ سبُو نہیں ہے
لہو سے اپنے ہی شام رنگین کر رہا ہوں