Monday, 12 October 2020

گزرتی ہے جو دل پر وہ کہانی یاد رکھتا ہوں

 گزرتی ہے جو دل پر وہ کہانی یاد رکھتا ہوں

میں ہر گلرنگ چہرے کو زبانی یاد رکھتا ہوں

میں اکثر کھو سا جاتا ہوں گلی کوچوں کے جنگل میں

مگر پھر بھی تِرے گھر کی نشانی یاد رکھتا ہوں

مجھے اچھے برے سے کوئی نسبت ہے تو اتنی ہے

کہ ہر نا مہرباں کی مہربانی یاد رکھتا ہوں

کبھی جو زندگی کی بے ثباتی یاد آتی ہے

تو سب کچھ بھول جاتا ہوں جوانی یاد رکھتا ہوں

مجھے معلوم ہے کیسے بدل جاتی ہیں تاریخیں

اسی خاطر تو میں باتیں پرانی یاد رکھتا ہوں


فاضل جمیلی

No comments:

Post a Comment