یہ بات صاف حقیقت ہے کوئی راز نہیں
کسی بھی دور میں شاعر زمانہ ساز نہیں
میں بندگی کے مفاہیم یوں سمجھتا ہوں
نماز میں ہوں اگر میں تو پھر نماز نہیں
بدلتی رُت نے مزاجوں کو بھی بدل ڈالا
ہر ایک شخص ہے محمود اور ایاز نہیں
یہ بات صاف حقیقت ہے کوئی راز نہیں
کسی بھی دور میں شاعر زمانہ ساز نہیں
میں بندگی کے مفاہیم یوں سمجھتا ہوں
نماز میں ہوں اگر میں تو پھر نماز نہیں
بدلتی رُت نے مزاجوں کو بھی بدل ڈالا
ہر ایک شخص ہے محمود اور ایاز نہیں
جُز تِرے ساتھ ہمارا نہیں دیتا کوئی
میں نہ کہتا تھا کہ یارا نہیں دیتا کوئی
مانگنے والے کو خیرات تو مل جاتی ہے
اپنی قسمت کا ستارہ نہیں دیتا کوئی
لوگ نظارے کو ساحل سے کھڑے تکتے ہیں
ڈوبنے والے سہارہ نہیں دیتا کوئی
دل تجھے بھول گیا ہو کہیں سچ تو ہے نا
یہ محبت بھی ریا ہو کہیں سچ تو ہے نا
اک قیامت ہے تِرا مجھ سے خفا ہو جانا
اور پھر روزِ جزا ہو کہیں سچ تو ہے نا
اب تِرے بعد تو موسم میں تغیّر بھی نہیں
کتنی بے رنگ ہوا ہو کہیں سچ تو ہے نا
آئینہ عکس ہوا کا نہیں دیتا کوئی
لمس احساس کو چہرہ نہیں دیتا کوئی
ماں چلی جائے تو لُٹ جاتی ہے دُنیا ساری
باپ مر جائے تو سایا نہیں دیتا کوئی
چلنے والوں کو تو دیوار بھی در ہوتی ہے
رُکنے والوں کو تو رستا نہیں دیتا کوئی
نصاب دل کا حسن کی کتاب سے نکل گیا
میں اپنے جسم و جان کے عذاب سے نکل گیا
محبتوں کے غول سے ضرورتوں کے مول سے
حسین آتشی بدن حجاب سے نکل گیا
وہ کتنا خوش نصیب ہے فنا ہوا جو عشق میں
گناہ سے نکل گیا،۔ ثواب سے نکل گیا
امیرِ شہر سے جب اختلاف کرتا ہوں
تو سارے شہر کو اپنے خلاف کرتا ہوں
تِرے ضمیر سے تجھ کو سزا ملے تو ملے
تِرے گناہ میں دل سے معاف کرتا ہوں
میں اپنی سوچ کا احرام باندھ کر اکثر
کسی کے نقشِ قدم کا طواف کرتا ہوں