Showing posts with label سید عدید. Show all posts
Showing posts with label سید عدید. Show all posts

Saturday, 2 October 2021

یہ بات صاف حقیقت ہے کوئی راز نہیں

 یہ بات صاف حقیقت ہے کوئی راز نہیں

کسی بھی دور میں شاعر زمانہ ساز نہیں

میں بندگی کے مفاہیم یوں سمجھتا ہوں

نماز میں ہوں اگر میں تو پھر نماز نہیں

بدلتی رُت نے مزاجوں کو بھی بدل ڈالا

ہر ایک شخص ہے محمود اور ایاز نہیں

Friday, 1 October 2021

جز ترے ساتھ ہمارا نہیں دیتا کوئی

 جُز تِرے ساتھ ہمارا نہیں دیتا کوئی

میں نہ کہتا تھا کہ یارا نہیں دیتا کوئی

مانگنے والے کو خیرات تو مل جاتی ہے

اپنی قسمت کا ستارہ نہیں دیتا کوئی

لوگ نظارے کو ساحل سے کھڑے تکتے ہیں

ڈوبنے والے سہارہ نہیں دیتا کوئی

Thursday, 30 September 2021

دل تجھے بھول گیا ہو کہیں سچ تو ہے نا

 دل تجھے بھول گیا ہو کہیں سچ تو ہے نا

یہ محبت بھی ریا ہو کہیں سچ تو ہے نا

اک قیامت ہے تِرا مجھ سے خفا ہو جانا

اور پھر روزِ جزا ہو کہیں سچ تو ہے نا

اب تِرے بعد تو موسم میں تغیّر بھی نہیں

کتنی بے رنگ ہوا ہو کہیں سچ تو ہے نا

Wednesday, 29 September 2021

آئنہ عکس ہوا کا نہیں دیتا کوئی

 آئینہ عکس ہوا کا نہیں دیتا کوئی

لمس احساس کو چہرہ نہیں دیتا کوئی

ماں چلی جائے تو لُٹ جاتی ہے دُنیا ساری

باپ مر جائے تو سایا نہیں دیتا کوئی

چلنے والوں کو تو دیوار بھی در ہوتی ہے

رُکنے والوں کو تو رستا نہیں دیتا کوئی

Tuesday, 21 September 2021

نصاب دل کا حسن کی کتاب سے نکل گیا

 نصاب دل کا حسن کی کتاب سے نکل گیا

میں اپنے جسم و جان کے عذاب سے نکل گیا

محبتوں کے غول سے ضرورتوں کے مول سے

حسین آتشی بدن حجاب سے نکل گیا

وہ کتنا خوش نصیب ہے فنا ہوا جو عشق میں

گناہ سے نکل گیا،۔ ثواب سے نکل گیا

Saturday, 18 September 2021

امیر شہر سے جب اختلاف کرتا ہوں

 امیرِ شہر سے جب اختلاف کرتا ہوں

تو سارے شہر کو اپنے خلاف کرتا ہوں

تِرے ضمیر سے تجھ کو سزا ملے تو ملے

تِرے گناہ میں دل سے معاف کرتا ہوں

میں اپنی سوچ کا احرام باندھ کر اکثر

کسی کے نقشِ قدم کا طواف کرتا ہوں