ندی ہی آفت سی کچھ مچا دے
زمیں کی تشنہ لبی مٹا دے
اندھیری راتوں کے سلسلے ہیں
چراغ چہروں کی لَو بڑھا دے
بھنور میں اُتروں کہ لوٹ جاؤں
مجھے بھی موجوں کا حوصلہ دے
ندی ہی آفت سی کچھ مچا دے
زمیں کی تشنہ لبی مٹا دے
اندھیری راتوں کے سلسلے ہیں
چراغ چہروں کی لَو بڑھا دے
بھنور میں اُتروں کہ لوٹ جاؤں
مجھے بھی موجوں کا حوصلہ دے
زمیں کے ٹکڑے کئے آسمان بانٹے گا
وہ شاہِ وقت ہے، سارا جہان بانٹے گا
لُٹے گا جس کے اشارے پہ زورِ گویائی
وہی تو بعد میں گونگی زبان بانٹے گا
رکھے رہے گا وہ تیروں پہ دسترس اپنی
ہمارے بیچ تو خالی کمان بانٹے گا
ہمیں مٹی ہی رہنے دو
نمی دے کر جو مٹی کو
مسلسل گوندھتے ہو تم
بتاؤ کیا بناؤ گے؟
کوئی کوزہ، کوئی مورت یا پھر محبوب کی صورت
سخنوَر ہوں، کہو تو مشورہ اک دوں
یہ گھاٹے کا ہی سودا ہے
مانگے ہے اک ستارہ سرِ آسمان پھر
دل کو یہ ضد کہ سُوئے افق ہو اڑان پھر
اب اے قفس نشینوں اٹھاؤ دعا کو ہاتھ
ہے شاخ شاخ موسمِ وہم و گمان پھر
ہر لمحہ کس محاذ کی جانب سفر میں ہے
کھینچے ہوئے رگوں میں لہو کی کمان پھر
لہو کی موج میں جینا مِرے حصے میں آیا ہے
بھنور بنتا ہوا دریا مرے حصے میں آیا ہے
سنہری عہدِ ماضی کی روایت ہم سے تھی لیکن
فقط دیمک لگا پنّا مرے حصے میں آیا ہے
پرندے آشیانہ چھوڑ کے کس سمت جا نکلے
دکھوں کا اک شجر تنہا مرے حصے میں آیا ہے
ہمیں خانوں میں مت بانٹو
کہ ہم تو روشنی ٹھہرے
کسی دہلیز پر جلتے ہوئے شب بھر
کسی کا راستہ تکتے
چراغوں سے بھی آگے ہے جہاں اپنا
اجالوں کی کمک لے کر