Showing posts with label کہکشاں تبسم. Show all posts
Showing posts with label کہکشاں تبسم. Show all posts

Monday, 16 August 2021

زمیں کی تشنہ لبی مٹا دے

 ندی ہی آفت سی کچھ مچا دے

زمیں کی تشنہ لبی مٹا دے

اندھیری راتوں کے سلسلے ہیں

چراغ چہروں کی لَو بڑھا دے

بھنور میں اُتروں کہ لوٹ جاؤں

مجھے بھی موجوں کا حوصلہ دے

Friday, 13 August 2021

زمیں کے ٹکڑے کئے آسمان بانٹے گا

 زمیں کے ٹکڑے کئے آسمان بانٹے گا

وہ شاہِ وقت ہے، سارا جہان بانٹے گا

لُٹے گا جس کے اشارے پہ زورِ گویائی

وہی تو بعد میں گونگی زبان بانٹے گا

رکھے رہے گا وہ تیروں پہ دسترس اپنی

ہمارے بیچ تو خالی کمان بانٹے گا

Sunday, 8 August 2021

اسے مٹی ہی رہنے دو

ہمیں مٹی ہی رہنے دو 


نمی دے کر جو مٹی کو

مسلسل گوندھتے ہو تم

بتاؤ کیا بناؤ گے؟

کوئی کوزہ، کوئی مورت یا پھر محبوب کی صورت

سخنوَر ہوں، کہو تو مشورہ اک دوں

یہ گھاٹے کا ہی سودا ہے

مانگے ہے اک ستارہ سر آسمان پھر

 مانگے ہے اک ستارہ سرِ آسمان پھر

دل کو یہ ضد کہ سُوئے افق ہو اڑان پھر

اب اے قفس نشینوں اٹھاؤ دعا کو ہاتھ

ہے شاخ شاخ موسمِ وہم و گمان پھر

ہر لمحہ کس محاذ کی جانب سفر میں ہے

کھینچے ہوئے رگوں میں لہو کی کمان پھر

لہو کی موج میں جینا مرے حصے میں آیا ہے

 لہو کی موج میں جینا مِرے حصے میں آیا ہے

بھنور بنتا ہوا دریا مرے حصے میں آیا ہے

سنہری عہدِ ماضی کی روایت ہم سے تھی لیکن

فقط دیمک لگا پنّا مرے حصے میں آیا ہے

پرندے آشیانہ چھوڑ کے کس سمت جا نکلے

دکھوں کا اک شجر تنہا مرے حصے میں آیا ہے

Friday, 26 March 2021

ہمیں خانوں میں مت بانٹو

 ہمیں خانوں میں مت بانٹو

کہ ہم تو روشنی ٹھہرے

کسی دہلیز پر جلتے ہوئے شب بھر

کسی کا راستہ تکتے

چراغوں سے بھی آگے ہے جہاں اپنا

اجالوں کی کمک لے کر