Sunday, 8 August 2021

لہو کی موج میں جینا مرے حصے میں آیا ہے

 لہو کی موج میں جینا مِرے حصے میں آیا ہے

بھنور بنتا ہوا دریا مرے حصے میں آیا ہے

سنہری عہدِ ماضی کی روایت ہم سے تھی لیکن

فقط دیمک لگا پنّا مرے حصے میں آیا ہے

پرندے آشیانہ چھوڑ کے کس سمت جا نکلے

دکھوں کا اک شجر تنہا مرے حصے میں آیا ہے

روپہلی چاندنی اس کو امیرِ شہر کی بخشش

سلگتی دھوپ کا صحرا مرے حصے میں آیا ہے

دریچے کھول کے بھی رُت کا اندازہ نہ کر پاٶں

عجب دہشت زدہ لمحہ مرے حصے میں آیا ہے

تبسم ہاتھ میں جگنو لیے در در بھٹکتی ہوں

کہ گھائل رات کا نوحہ مرے حصے میں آیا ہے


کہکشاں تبسم

No comments:

Post a Comment