تھکا ہارا ہوں مدت سے کہیں سستا نہیں پایا
خزانہ وقت کا کھویا ہے ورنہ کیا نہیں پایا
سوائے ذاتِ اقدس کے کوئی پرساں نہیں دیکھا
کچھ ایسے زخم پوشیدہ ہیں جو دکھلا نہیں پایا
یوں اشکوں کو پیے جانا، جیے جانا یونہی تنہا
مِرا وجدان بنتے ہیں جو میں چھلکا نہیں پایا