Showing posts with label طاہر عبید تاج. Show all posts
Showing posts with label طاہر عبید تاج. Show all posts

Monday, 12 May 2025

تھکا ہارا ہوں مدت سے کہیں سستا نہیں پایا

 تھکا ہارا ہوں مدت سے کہیں سستا نہیں پایا

خزانہ وقت کا کھویا ہے ورنہ کیا نہیں پایا

سوائے ذاتِ اقدس کے کوئی پرساں نہیں دیکھا

کچھ ایسے زخم پوشیدہ ہیں جو دکھلا نہیں پایا

یوں اشکوں کو پیے جانا، جیے جانا یونہی تنہا

مِرا وجدان بنتے ہیں جو میں چھلکا نہیں پایا

Friday, 30 August 2024

اجاڑ لفظوں کی بے زبانی سے ڈر گئے ہیں

 اجاڑ لفظوں کی بے زبانی سے ڈر گئے ہیں

جو خود نوشتہ ہے اس کہانی سے ڈر گئے ہیں

ہمیں ہوائے قریبِ صحرا نے یہ خبر دی

کہ تشنہ لب تیرے اب کے پانی سے ڈر گئے ہیں

ہوئے تھے تم غیر، لیکن اب مرحلہ ہے مشکل

تمہاری غیروں کی ترجمانی سے ڈر گئے ہیں

Sunday, 19 February 2023

کسی تلاش سے تھک کر ہی سکوں ہوتا ہے

کسی تلاش سے تھک کر ہی سکوں ہوتا ہے

ہمارے ساتھ ہر جنم میں یہ کیوں ہوتا ہے؟

ہم اس کے سر سے ہر اک شعر وارتے جائیں

بِکیں الفاظ تو جذبات کا خوں ہوتا ہے

میرے بارے ہی اگر پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ

قصہ خوانوں میں کہاں سوزِ دروں ہوتا ہے

Sunday, 17 October 2021

غمگساروں کا کیا بھروسہ

 غمگساروں کا کیا بھروسہ

بے سہاروں کا کیا بھروسہ

چھپ کے بادل کی اوٹ میں رہ لیں

چاند تاروں کا کیا بھروسہ

جن کی قسمت خزاں کا بوجھ بنے

ان بہاروں کا کیا بھروسہ

Friday, 15 October 2021

میرے اعصاب میں اک جو فریاد تھی وہ تری یاد تھی

 میرے اعصاب میں اک جو فریاد تھی، وہ تِری یاد تھی

اور وہم و گماں میں جو آباد تھی، وہ تری یاد تھی

مجھ پہ طاری رہا اس کا احساس بادِ صبا کی طرح

ایسا لگتا ہے جیسے چمن زاد تھی، وہ تری یاد تھی

اب کے یوں بھی ہوا کہ سفر نے مجھے راستہ نہ دیا

فاصلوں سے، حدوں سے جو آزاد تھی، وہ تری یاد تھی

موسم ہجر یا وصال ملا

 موسمِ ہجر یا وصال ملا

جو بھی ہم کو ملا کمال ملا

سانس کا سلسلہ تماشا تھا

خوف کا سلسلہ بحال ملا

اپنے باطن کی خلوتوں میں ہمیں

جلوہ آراء تِرا خیال ملا

Wednesday, 9 December 2020

وہ لوگ جو کھلی کتاب کی طرح نظر میں ہیں

 وہ لوگ جو کھلی کتاب کی طرح نظر میں ہیں

یہ جانتے نہیں کہ احتیاط سے مفر میں ہیں

قیام کے لیے کوئی مقامِ دلبری نہیں

میں جانتا بھی ہوں کہ سارے مسئلے سفر میں ہیں

تلخیوں کے بعد کیسے کیسے رابطے ہوئے

یہ سوچ کر نبھا گئے کہ عمرِ مختصر میں ہیں

Tuesday, 8 December 2020

تھکا ہارا ہوں مدت سے کہیں سستا نہیں پایا

 تھکا ہارا ہوں مدت سے کہیں سستا نہیں پایا

خرانہ وقت کا کھویا ہے، ورنہ کیا نہیں پایا

سوائے ذاتِ اقدس کے کوئی پرساں نہیں دیکھا

کچھ ایسے زخم پوشیدہ ہیں جو دِکھلا نہیں پایا

مری بربادئ دل کا تعلق تھا وفاؤں سے

کہ سب کچھ کر دیا لیکن انہیں جتلا نہیں پایا