غمگساروں کا کیا بھروسہ
بے سہاروں کا کیا بھروسہ
چھپ کے بادل کی اوٹ میں رہ لیں
چاند تاروں کا کیا بھروسہ
جن کی قسمت خزاں کا بوجھ بنے
ان بہاروں کا کیا بھروسہ
کب کسی اور کو ہو پیار ان کو
اپنے پیاروں کا کیا بھروسہ
کل تھی شمشیر جن کے ہاتھوں میں
جاں نثاروں کا کیا بھروسہ
ہے مقابل وہ لشکرِ اعداء
اور یاروں کا کیا بھروسہ
طاہر عبید تاج
No comments:
Post a Comment