Sunday, 17 October 2021

غمگساروں کا کیا بھروسہ

 غمگساروں کا کیا بھروسہ

بے سہاروں کا کیا بھروسہ

چھپ کے بادل کی اوٹ میں رہ لیں

چاند تاروں کا کیا بھروسہ

جن کی قسمت خزاں کا بوجھ بنے

ان بہاروں کا کیا بھروسہ

کب کسی اور کو ہو پیار ان کو

اپنے پیاروں کا کیا بھروسہ

کل تھی شمشیر جن کے ہاتھوں میں

جاں نثاروں کا کیا بھروسہ

ہے مقابل وہ لشکرِ اعداء

اور یاروں کا کیا بھروسہ


طاہر عبید تاج

No comments:

Post a Comment