Sunday, 17 October 2021

ایک پل کے لیے تھے وہ آئے نظر

 ایک پل کے لیے تھے وہ آئے نظر

عمر بھر دل پکارا کہ ہائے نظر

پھول بن کر ہمیشہ ہی کھلتی رہے

چاند بن کر کبھی جگمگائے نظر

وقت رخصت تِری چشم نم کیا کہوں

کاش منظر مِری بھول جائے نظر

جانے دل میں یہ کس کا خیال آ گیا

آپ ہی آپ یہ مسکرائے نظر

اک مثالی غزل ہے لکھی آپ پر

خواب لمحوں سے روشن برائے نظر

ایک مدت سے حسرت یہی ہے مِری

مجھ کو دیکھے تو پھر وہ ملائے نظر

اس کے تیر نظر کی بڑی دھوم ہے

آئے دل پہ مِرے آزمائے نظر

اس نظر کی نظر میں اتاروں گی پھر

اک نظر جو تجھے دیکھ پائے نظر

ہادیہ روح میں میری بستا ہے وہ

کیسے ممکن ہے اب وہ چرائے نظر


اسماء ہادیہ

No comments:

Post a Comment