Sunday, 17 October 2021

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے

 محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے

وہ سب کچھ ہے مگر انساں نہیں ہے

شعورِ زندگی پر مٹنے والو

شعورِ زندگی آساں نہیں ہے

طلب کا ہاتھ بڑھتا جا رہا ہے

خیالِ وسعتِ داماں نہیں ہے

خفا بے وجہ ناصح ہو رہے ہو

تمہاری بات کچھ قرآں نہیں ہے

وہ مست حال ہے وصفی کہ اس کو

غمِ دل ہے، غمِ دوراں نہیں ہے


وصفی بہرائچی

No comments:

Post a Comment