Showing posts with label جاوید اعظمی. Show all posts
Showing posts with label جاوید اعظمی. Show all posts

Monday, 22 June 2026

موسم گل پھر آنے لگا ہے

 موسمِ گُل پھر آنے لگا ہے

پھر وہی غم ستانے لگا ہے

آنکھ کی یہ نمی کہہ رہی ہے

یاد پھر کوئی آنے لگا ہے

دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں پتھر

آئینہ🪞 مسکرانے لگا ہے

Wednesday, 10 September 2025

ستم کب ان پہ ڈھایا ہے کسی نے

 ستم کب ان پہ ڈھایا ہے کسی نے

بس آئینہ دکھایا ہے کسی نے

فلک سے خوں کی بارش کیوں نہ ہوتی

زمیں کا دل دکھایا ہے کسی نے

مری آنکھیں چھلکنے لگ گئیں ہیں

تعلق کیا نبھایا ہے کسی نے

Sunday, 17 August 2025

ہوا کو آزمانے جا رہے ہو

 ہوا کو آزمانے جا رہے ہو

چراغ دل جلانے جا رہے ہو

اسی در پر سنورتا ہے مقدر

جہاں سر کو جھکانے جا رہے ہو

جو سنگ میل ہے راہ وفا کا

اسے رستہ بتانے جا رہے ہو

Sunday, 4 April 2021

شکایت اب نہیں مجھ کو کسی سے

شکایت اب نہیں مجھ کو کسی سے

مگر آنکھوں کا رشتہ ہے نمی سے

محافظ اب چراغوں کا وہی ہے

جو واقف ہی نہیں کچھ روشنی سے

گنوا دوں کیسے میں اس طرح یوں ہی

تجھے پایا ہے میں نے بندگی سے