موسمِ گُل پھر آنے لگا ہے
پھر وہی غم ستانے لگا ہے
آنکھ کی یہ نمی کہہ رہی ہے
یاد پھر کوئی آنے لگا ہے
دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں پتھر
آئینہ🪞 مسکرانے لگا ہے
موسمِ گُل پھر آنے لگا ہے
پھر وہی غم ستانے لگا ہے
آنکھ کی یہ نمی کہہ رہی ہے
یاد پھر کوئی آنے لگا ہے
دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں پتھر
آئینہ🪞 مسکرانے لگا ہے
ستم کب ان پہ ڈھایا ہے کسی نے
بس آئینہ دکھایا ہے کسی نے
فلک سے خوں کی بارش کیوں نہ ہوتی
زمیں کا دل دکھایا ہے کسی نے
مری آنکھیں چھلکنے لگ گئیں ہیں
تعلق کیا نبھایا ہے کسی نے
ہوا کو آزمانے جا رہے ہو
چراغ دل جلانے جا رہے ہو
اسی در پر سنورتا ہے مقدر
جہاں سر کو جھکانے جا رہے ہو
جو سنگ میل ہے راہ وفا کا
اسے رستہ بتانے جا رہے ہو
شکایت اب نہیں مجھ کو کسی سے
مگر آنکھوں کا رشتہ ہے نمی سے
محافظ اب چراغوں کا وہی ہے
جو واقف ہی نہیں کچھ روشنی سے
گنوا دوں کیسے میں اس طرح یوں ہی
تجھے پایا ہے میں نے بندگی سے