Sunday, 4 April 2021

شکایت اب نہیں مجھ کو کسی سے

شکایت اب نہیں مجھ کو کسی سے

مگر آنکھوں کا رشتہ ہے نمی سے

محافظ اب چراغوں کا وہی ہے

جو واقف ہی نہیں کچھ روشنی سے

گنوا دوں کیسے میں اس طرح یوں ہی

تجھے پایا ہے میں نے بندگی سے

نگاہوں سے پلا دیتا ہے جب وہ

سنبھلتا میں نہیں ہوں پھر کسی سے

یہیں پر ختم ہوتی ہے کہانی

جدا اب ہو رہا ہوں زندگی سے

وہی جاوید تھا مطلوب اس کو

فرشتہ بن گیا جو آدمی سے


جاوید صدیقی اعظمی

No comments:

Post a Comment