Showing posts with label اختر عبدالرزاق​. Show all posts
Showing posts with label اختر عبدالرزاق​. Show all posts

Friday, 9 December 2022

ہر قدم اک نئے آزار پہ رکھ دیتا ہوں

 ہر قدم اک نئے آزار پہ رکھ دیتا ہوں

خار سے بچتا ہوں انگار پہ رکھ دیتا ہوں

پھول پھینکے کوئی دیوار کے پیچھے سے اگر

پھر اٹھا کر اسے دیوار پہ رکھ دیتا ہوں

جنگجو ایسا کہ خود ہارتا ہوں ہر بازی

اور الزام میں تلوار پہ رکھ دیتا ہوں

Sunday, 23 October 2022

سوکھے ہوئے کچھ پھول بھی گلدان میں رکھنا

 سوکھے ہوئے کچھ پھول بھی گلدان میں رکھنا

ہے حسن کا انجام یہی، دھیان میں رکھنا

پھر شوق سے مجرم مجھے گرداننا، لیکن

انصاف کی مسند کھلے میدان میں رکھنا

ایسا نہ ہو پڑ جائے کہیں میری ضرورت

لازم نہ سہی پر اسے امکان میں رکھنا

Tuesday, 5 April 2022

کچھ نہیں تھا پہ یوں لگتا ہے کہ اب کچھ تو ہے

کچھ نہیں تھا پہ یوں لگتا ہے کہ اب کچھ تو ہے

بے سبب اُس کو یوں تکنے کا سبب کچھ تو ہے

کچھ تو ہے جو مجھے بے چین کیے دیتا ہے

اس کے عارض ہیں کہ آنکھیں ہیں کہ لب کچھ تو ہے

میں نہیں کہتا مجھے اس سے محبت ہے مگر

جو بھی ہوتا ہے محبت میں وہ سب کچھ تو ہے

Monday, 17 May 2021

دشت میں پھر کسی مجنوں کی پذیرائی ہوئی

دشت میں پھر کسی مجنوں کی پذیرائی ہوئی

ہم نے صحراؤں میں دیکھی ہے بہار آئی ہوئی

زندگی تھی ہی نہیں پاس تو کیا لے جاتی

موت بھی گزری مِرے پاس سے گھبرائی ہوئی

جو زمیں پاؤں سے ٹکرائی وہ گردش میں رہی

جو ہوا گزری مِرے سر سے وہ سودائی ہوئی

Tuesday, 9 February 2021

اک سفر کے لیے یہ دکھ بھی اٹھانے پڑے تھے

 اِک سفر کے لیے یہ دُکھ بھی اُٹھانے پڑے تھے

میں چلا آیا، میرے خواب سَرھانے پڑے تھے

دوستی نے مجھے محسوس کِیا تھا پھر بھی

زندہ رہنے کے لیے دوست بنانے پڑے تھے

یہ جو اب دیکھ رہے ہو میرے ہاتھوں کا ہنر

اس کی اُجرت میں مجھے ہاتھ کٹانے پڑے تھے

Tuesday, 24 November 2020

وسوسے جب بھی مرے دل کو ڈرانے لگ جائیں

وسوسے جب بھی مِرے دل کو ڈرانے لگ جائیں

میری آنکھیں مجھے پھر خواب دکھانے لگ جائیں

اک تِرے درد کی دولت ہی بہت ہے مجھ کو

میں نے کب چاہا مِرے ہاتھ خزانے لگ جائیں

قصۂ درد سنا تم نے با اندازِ دِگر

ورنہ پتھر جو سنیں اشک بہانے لگ جائیں