ہر قدم اک نئے آزار پہ رکھ دیتا ہوں
خار سے بچتا ہوں انگار پہ رکھ دیتا ہوں
پھول پھینکے کوئی دیوار کے پیچھے سے اگر
پھر اٹھا کر اسے دیوار پہ رکھ دیتا ہوں
جنگجو ایسا کہ خود ہارتا ہوں ہر بازی
اور الزام میں تلوار پہ رکھ دیتا ہوں
ہر قدم اک نئے آزار پہ رکھ دیتا ہوں
خار سے بچتا ہوں انگار پہ رکھ دیتا ہوں
پھول پھینکے کوئی دیوار کے پیچھے سے اگر
پھر اٹھا کر اسے دیوار پہ رکھ دیتا ہوں
جنگجو ایسا کہ خود ہارتا ہوں ہر بازی
اور الزام میں تلوار پہ رکھ دیتا ہوں
سوکھے ہوئے کچھ پھول بھی گلدان میں رکھنا
ہے حسن کا انجام یہی، دھیان میں رکھنا
پھر شوق سے مجرم مجھے گرداننا، لیکن
انصاف کی مسند کھلے میدان میں رکھنا
ایسا نہ ہو پڑ جائے کہیں میری ضرورت
لازم نہ سہی پر اسے امکان میں رکھنا
کچھ نہیں تھا پہ یوں لگتا ہے کہ اب کچھ تو ہے
بے سبب اُس کو یوں تکنے کا سبب کچھ تو ہے
کچھ تو ہے جو مجھے بے چین کیے دیتا ہے
اس کے عارض ہیں کہ آنکھیں ہیں کہ لب کچھ تو ہے
میں نہیں کہتا مجھے اس سے محبت ہے مگر
جو بھی ہوتا ہے محبت میں وہ سب کچھ تو ہے
دشت میں پھر کسی مجنوں کی پذیرائی ہوئی
ہم نے صحراؤں میں دیکھی ہے بہار آئی ہوئی
زندگی تھی ہی نہیں پاس تو کیا لے جاتی
موت بھی گزری مِرے پاس سے گھبرائی ہوئی
جو زمیں پاؤں سے ٹکرائی وہ گردش میں رہی
جو ہوا گزری مِرے سر سے وہ سودائی ہوئی
اِک سفر کے لیے یہ دُکھ بھی اُٹھانے پڑے تھے
میں چلا آیا، میرے خواب سَرھانے پڑے تھے
دوستی نے مجھے محسوس کِیا تھا پھر بھی
زندہ رہنے کے لیے دوست بنانے پڑے تھے
یہ جو اب دیکھ رہے ہو میرے ہاتھوں کا ہنر
اس کی اُجرت میں مجھے ہاتھ کٹانے پڑے تھے
وسوسے جب بھی مِرے دل کو ڈرانے لگ جائیں
میری آنکھیں مجھے پھر خواب دکھانے لگ جائیں
اک تِرے درد کی دولت ہی بہت ہے مجھ کو
میں نے کب چاہا مِرے ہاتھ خزانے لگ جائیں
قصۂ درد سنا تم نے با اندازِ دِگر
ورنہ پتھر جو سنیں اشک بہانے لگ جائیں