Monday, 17 May 2021

دشت میں پھر کسی مجنوں کی پذیرائی ہوئی

دشت میں پھر کسی مجنوں کی پذیرائی ہوئی

ہم نے صحراؤں میں دیکھی ہے بہار آئی ہوئی

زندگی تھی ہی نہیں پاس تو کیا لے جاتی

موت بھی گزری مِرے پاس سے گھبرائی ہوئی

جو زمیں پاؤں سے ٹکرائی وہ گردش میں رہی

جو ہوا گزری مِرے سر سے وہ سودائی ہوئی

کوئی گُن ہے نہ کوئی حسن و کشش ہے مجھ میں

اور سمجھتا ہوں کہ دنیا مِری شیدائی ہوئی

دیکھ پایا نہ میں اس چہرے کے پیچھے چہرہ

کیسا بینا ہوں، بھلا یہ کوئی بینائی ہوئی

راکھ ہو جاؤں گا، یا اس میں بنوں گا کندن

میں نے اک آگ جو سینے میں ہے دہکائی ہوئی

زندگی نے جو دیا کس کو دکھاتا اختر

پھول مُرجھائے ہوئے، چاندنی گہنائی ہوئی


اختر عبدالرزاق​

No comments:

Post a Comment