ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں
اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں
جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید
ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں
پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں
زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں
ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں
اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں
جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید
ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں
پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں
زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں
چاہتوں کا وہ سلسلہ بھی نہیں
دل مری بات مانتا بھی نہیں
کیوں ہے یہ تیرگی بتاؤ تو
اک دیا بھی یہاں پہ جلتا نہیں
دل پہ میرے جو تم نے لکھا تھا
نام اب تک تِرا مِٹا بھی نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو جو بھی بات دل میں ہے جا کر عیاں کرو
آقائے دو جہاںﷺ سے نہیں کچھ نہاں کرو
وہ جانتے ہیں حال، سبھی دل کے راز بھی
مانگو خدا سے ان کے وسیلے دعا کرو
جو ظلمتیں ہیں گھیرے ہوئے چھوڑ جائیں گی
پڑھ کے درود خانۂ دل ضو فشاں کرو
کیسے کہتے ہو مجھے چھوڑ کے گھر جاؤ گے
میں نے گر چھوڑا تمہیں تم ابھی مر جاؤ گے
ہے حقیقت بڑی کڑوی مگر سہنا ہو گی
زندگی تلخ ہے دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے
میں بھلا کیسے اسے اپنا مقدر کہہ دوں
بازی جیتی ہوئی اس بات پہ ہر جاؤ گے