Showing posts with label خاور چشتی. Show all posts
Showing posts with label خاور چشتی. Show all posts

Tuesday, 9 June 2026

زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں

 ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں

اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں

جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید

ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں

پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں

زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں

Saturday, 17 May 2025

چاہتوں کا وہ سلسلہ بھی نہیں

 چاہتوں کا وہ سلسلہ بھی نہیں

دل مری بات مانتا بھی نہیں

کیوں ہے یہ تیرگی بتاؤ تو

اک دیا بھی یہاں پہ جلتا نہیں

دل پہ میرے جو تم نے لکھا تھا

نام اب تک تِرا مِٹا بھی نہیں

Sunday, 29 September 2024

ذکر رسول سے اسے پھر نعت خواں کرو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو جو بھی بات دل میں ہے جا کر عیاں کرو​

آقائے دو جہاںﷺ سے نہیں کچھ نہاں کرو

وہ جانتے ہیں حال، سبھی دل کے راز بھی

مانگو خدا سے ان کے وسیلے دعا کرو

جو ظلمتیں ہیں گھیرے ہوئے چھوڑ جائیں گی

پڑھ کے درود خانۂ دل ضو فشاں کرو

Saturday, 28 September 2024

کیسے کہتے ہو مجھے چھوڑ کے گھر جاؤ گے

 کیسے کہتے ہو مجھے چھوڑ کے گھر جاؤ گے

میں نے گر چھوڑا تمہیں تم ابھی مر جاؤ گے

ہے حقیقت بڑی کڑوی مگر سہنا ہو گی

زندگی تلخ ہے دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے

میں بھلا کیسے اسے اپنا مقدر کہہ دوں

بازی جیتی ہوئی اس بات پہ ہر جاؤ گے