Showing posts with label سارا غزل. Show all posts
Showing posts with label سارا غزل. Show all posts

Friday, 15 July 2022

ہادئ کل احمد مختار کی باتیں کریں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہادئ کُل، احمدِﷺ مختار کی باتیں کریں

ہم غزل میں بھی شہِ ابراؐر کی باتیں کریں

تذکرہ تفسیرِ قرآں، لا نبی بعدی کا ہو

ذکر حُسنِ خُلق کا، گفتار کی باتیں کریں

جس کے آگے جھک گئی ہر رفعتِ ارض و سماں

اس عظیم المرتبت سردارﷺ کی باتیں کریں

Sunday, 21 November 2021

جھلستی دوپہر میں تو نے انسان کو بچایا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جھلستی دوپہر میں تُو نے انسان کو بچایا ہے​

تو پھر اس میں غلط کیا ہے کہ تُو رحمت کا سایہ ہے​

دلوں کو جوڑ کر تُو نے محبت کی طرح ڈالی​

مٹا کر غیریت کو پیار کا جادو جگایا ہے​

تِرے نقشِ کفِ پا نے سرِ صحرائے بے پایاں​

جو رستہ بھول بیٹھے تھے انہیں رستہ دکھایا ہے

Thursday, 29 July 2021

کبھی ساحل تو کبھی سیلِ خطر ٹھہرے گی

 کبھی ساحل تو کبھی سیلِ خطر ٹھہرے گی

بحرِ ہستی میں اگر موجِ سفر ٹھہرے گی

ورطۂ شب سے نکل آئی اگر کشتئ صبح

ساحلِ نور پہ ٹھہرے گی اگر ٹھہرے گی

سینۂ حسن میں پوشیدہ ہے جو آگ ابھی

تیشۂ عشق سے گلرنگ سحر ٹھہرے گی

Wednesday, 28 July 2021

سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو

 سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو

ترستی ہے زباں گونگے دلوں کی گرمجوشی کو

ہوئے آرائشِ جاں کی بدولت کو بہ کو رسوا

کہ عریانی سمجھتے ہیں ہم اپنی جامہ پوشی کو

جب اپنا دم گھٹا ہر دم فصیلِ شہر کے اندر

نکل آئے ہیں صحراؤں میں ہم خانہ بدوشی کو

Tuesday, 27 July 2021

خود نمائی عمر بھر کا قہر ہے

 خود نمائی عمر بھر کا قہر ہے

میرے ہونٹوں پر سخن کا زہر ہے

دل دھڑکتا ہے مِرے کانوں کے پاس

اور خوابیدہ یہ سارا شہر ہے

ان کھلی آنکھوں کی پنہائی میں آج

منظرِ عقدہ کشائے دہر ہے

Monday, 26 July 2021

قفس رنگ سے نکلے تو کدھر جائیں گے

 قفسِ رنگ سے نکلے تو کدھر جائیں گے

ہم پریشانِ نظر اور بکھر جائیں گے

شعلۂ وقت سے ہر شمع کو ملتی ہے چمک

محفلِ دل کے مقدر بھی سنور جائیں گے

کہیں ملتا ہی نہیں بحرِ جنوں کا ساحل

صورتِ موجِ بلا خیز گزر جائیں گے

Sunday, 28 March 2021

غم کی بے پناہی میں دل نے حوصلہ پایا

 غم کی بے پناہی میں، دل نے حوصلہ پایا

تیرگی کے جنگل میں، چشمۂ ضیا پایا

آفتاب کا پیکر، بن گیا بدن اپنا

روشنی میں سائے کا، سحر ٹوٹتا پایا

کھل گئی جو آنکھ اپنی، وقت کی صدا سن کر

ان گِنت جہانوں کا، در کُھلا ہوا پایا