Showing posts with label تاجور نجیب آبادی. Show all posts
Showing posts with label تاجور نجیب آبادی. Show all posts

Thursday, 6 July 2023

اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج

 اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج

حسنِ نظر نواز، حریفِ نظر ہے آج

ہر رازداں ہے حیرتیٔ جلوہ ہائے راز

جو با خبر ہے آج وہی بے خبر ہے آج

کیا دیکھیے کہ دیکھ ہی سکتے نہیں اسے

اپنی نگاہِ شوق حجابِ نظر ہے آج

Tuesday, 20 June 2023

محبت میں زباں کو میں نوا سنج فغاں کر لوں

 محبت میں زباں کو میں نوا سنج فغاں کر لوں

شکستہ دل کی آہوں کو حریف ناتواں کر لوں

نہ میں بدلا، نہ وہ بدلے، نہ دل کی آرزو بدلی

میں کیوں کر اعتبار‌‌ِ انقلابِ ناتواں کر لوں

نہ کر محوِ تماشا اے تحیّر! اتنی مہلت دے

میں ان سے داستانِ درد دل کو تو بیاں کر لوں

Wednesday, 7 June 2023

حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیں

 حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیں

درد آفریں نظر، درد آشنا نہیں

ننگِ عاشقی ہے وہ ننگِ زندگی ہے وہ

جس کے دل کا آئینہ تیرا آئینہ نہیں

آہ اس کی بے کسی تُو نہ جس کے ساتھ ہو

ہائے اس کی بندگی جس کا تُو خدا نہیں

Tuesday, 6 June 2023

شر میں پھر وہی نقشہ نظر آتا ہے مجھے

 شر میں پھر وہی نقشہ نظر آتا ہے مجھے 

آج بھی وعدۂ فردا نظر آتا ہے مجھے 

خلش عشق مٹے گی مِرے دل سے جب تک 

دل ہی مٹ جائے گا ایسا نظر آتا ہے مجھے 

رونقِ چشمِ تماشا ہے مِری بزم خیال 

اس میں وہ انجمن آرا نظر آتا ہے مجھے 

Monday, 5 June 2023

غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں

 غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں

فضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میں

کھٹک رہا ہوں ہر اک کی نظروں میں بچ کے چلتی ہے مجھ سے دنیا

زہے گراں باریٔ محبت کہ دوشِ ہستی پہ بار ہوں میں

کہاں ہے تو وعدۂ وفا کر کے او مِرے بھول جانے والے

مجھے بچا لے کہ پائمال قیامت انتظار ہوں میں