اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج
حسنِ نظر نواز، حریفِ نظر ہے آج
ہر رازداں ہے حیرتیٔ جلوہ ہائے راز
جو با خبر ہے آج وہی بے خبر ہے آج
کیا دیکھیے کہ دیکھ ہی سکتے نہیں اسے
اپنی نگاہِ شوق حجابِ نظر ہے آج
اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج
حسنِ نظر نواز، حریفِ نظر ہے آج
ہر رازداں ہے حیرتیٔ جلوہ ہائے راز
جو با خبر ہے آج وہی بے خبر ہے آج
کیا دیکھیے کہ دیکھ ہی سکتے نہیں اسے
اپنی نگاہِ شوق حجابِ نظر ہے آج
محبت میں زباں کو میں نوا سنج فغاں کر لوں
شکستہ دل کی آہوں کو حریف ناتواں کر لوں
نہ میں بدلا، نہ وہ بدلے، نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیوں کر اعتبارِ انقلابِ ناتواں کر لوں
نہ کر محوِ تماشا اے تحیّر! اتنی مہلت دے
میں ان سے داستانِ درد دل کو تو بیاں کر لوں
حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیں
درد آفریں نظر، درد آشنا نہیں
ننگِ عاشقی ہے وہ ننگِ زندگی ہے وہ
جس کے دل کا آئینہ تیرا آئینہ نہیں
آہ اس کی بے کسی تُو نہ جس کے ساتھ ہو
ہائے اس کی بندگی جس کا تُو خدا نہیں
شر میں پھر وہی نقشہ نظر آتا ہے مجھے
آج بھی وعدۂ فردا نظر آتا ہے مجھے
خلش عشق مٹے گی مِرے دل سے جب تک
دل ہی مٹ جائے گا ایسا نظر آتا ہے مجھے
رونقِ چشمِ تماشا ہے مِری بزم خیال
اس میں وہ انجمن آرا نظر آتا ہے مجھے
غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں
فضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میں
کھٹک رہا ہوں ہر اک کی نظروں میں بچ کے چلتی ہے مجھ سے دنیا
زہے گراں باریٔ محبت کہ دوشِ ہستی پہ بار ہوں میں
کہاں ہے تو وعدۂ وفا کر کے او مِرے بھول جانے والے
مجھے بچا لے کہ پائمال قیامت انتظار ہوں میں