Wednesday, 22 July 2026

جو میرے پیار میں الجھا ہوا دکھائی دے

 جو میرے پیار میں اُلجھا ہوا دکھائی دے

خدا کبھی نہ مِری قید سے رہائی دے

مِری بہو کو جو کوئی بھی منہ دکھائی دے

تو ساتھ نقد کے زیور کوئی طلائی دے

عجیب شخص سے پالا پڑا ہے اے بھابی

میں کچھ کہوں تو اسے کچھ کا کچھ سنائی دے

وہ چھیڑا کرتی ہے مردوں کو راہ چلتے میں

خدا کسی کو نہ اس درجہ بے حیائی دے

دُعا یہ اپنی پڑوسن کو آج دی میں نے

کہ ان کی شکل کا اللہ تجھ کو بھائی دے

مِری غزل کو کسی روز ٹیپ کر لینا

میں چپ رہوں بھی تو نغمہ مِرا سنائی دے


ساجد سجنی لکھنوی

No comments:

Post a Comment