Wednesday, 22 July 2026

شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے

 شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے

یہ لوگ کبھی ہم سے وفادار بہت تھے

میں نے ہی تِرے بعد سنبھالے اسے رکھا

ورنہ تو مِرے دل کے خریدار بہت تھے

کب میں نے کبھی چارہ گرو تم کو پکارا

مُشکل میں سہارے مجھے دو چار بہت تھے

تم ساتھ چلو تو کوئی مُشکل نہیں مُشکل

رستے یہ اکیلے میں تو دُشوار بہت تھے

ہم اہلِ سخن حرف کی حُرمت کے تھے قائل

سو تاج ہمارے لیے بے کار بہت تھے

بس ایک ہی جھونکے سے حقیقت کُھلی عنبر

اس کھیل میں کاغذ کے جو کردار بہت تھے


فرحانہ عنبر

No comments:

Post a Comment