شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے
یہ لوگ کبھی ہم سے وفادار بہت تھے
میں نے ہی تِرے بعد سنبھالے اسے رکھا
ورنہ تو مِرے دل کے خریدار بہت تھے
کب میں نے کبھی چارہ گرو تم کو پکارا
مُشکل میں سہارے مجھے دو چار بہت تھے
تم ساتھ چلو تو کوئی مُشکل نہیں مُشکل
رستے یہ اکیلے میں تو دُشوار بہت تھے
ہم اہلِ سخن حرف کی حُرمت کے تھے قائل
سو تاج ہمارے لیے بے کار بہت تھے
بس ایک ہی جھونکے سے حقیقت کُھلی عنبر
اس کھیل میں کاغذ کے جو کردار بہت تھے
فرحانہ عنبر
No comments:
Post a Comment