Monday, 13 July 2026

خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے

 خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے

شکایتوں کے لیے رخ نکال لایا ہے

یہ کہہ کے اس نے مجھے حیرتوں میں ڈال دیا

وہ میرے بیتے ہوئے ماہ و سال لایا ہے

ذرا سی دیر میں صدیوں کا بن گیا ضامن

یہ کس مزاج کا حرف کمال لایا ہے

اب اس کے آگے تمہیں حیرتیں بتاؤں بھی کیا

خوشی کا لمحہ بھی رنج و ملال لایا ہے

مجھے پتا نہ چلا یہ کہ میرا محسن بھی

ورق پہ سونے کے لکھ کر زوال لایا ہے

بساط عشق میں اسلم یہ کیسے مات ہوئی

کہاں کہاں سے وہ مہرے نکال لایا ہے


اسلم نور

No comments:

Post a Comment