سودائے شہادت نہ ہو جس سر میں وہ سر کیا
جس میں نہ حرارت ہو نہ حرکت وہ شرر کیا
نکہت ہو نہ رنگت تو چمن میں گُلِ تر کیا
جب علم و ہُنر ہو نہ بشر میں تو بشر کیا
جُھک جائے عدُو کا بھی نہ سر جس پہ وہ در کیا
ماحول مسرّت کا نہ ہو جس میں وہ گھر کیا
سینے سے گُزرتی ہوئی باطن میں پہنچ کر
جو عالمِ دل کو نہ بدل دے وہ نظر کیا
خُورشید بکف آئے شبِ شوق تو کیا شب
جو شام لپیٹے ہوئے آئے وہ سحر کیا
انسان کے دُکھ میں جو کبھی کام نہ آئے
پھر اس کی دُعاؤں کا حرم میں بھی اثر کیا
انساں کو جو دیوانۂ انساں نہ بنا دے
اس دور میں وہ درس گہ علم و ہُنر کیا
اے بے خبر! اس قلبِ مُنوّر کے مقابل
یہ روشنیٔ لعل و گُہر شمس و قمر کیا
وہ چشمِ تغافل ہو کہ ہو چشمِ عنایت
دیوانے کو ساقی کی نگاہوں کی خبر کیا
افسردگیٔ غنچہ و گُل کو جو بڑھا دے
گُلزار میں وہ بادِ صبا، بادِ سحر کیا
دریا کو جو اک نُور کا دریا نہ بنا دے
گُمنام تہہ آب وہ تابندہ گُہر کیا
اک بھیڑ سی دیکھی تو کہا ہمسفروں سے
دیکھو ذرا بڑھ کر تو یہ امجد کا ہے گھر کیا
امجد غزنوی
No comments:
Post a Comment