Showing posts with label اجیت حسرت. Show all posts
Showing posts with label اجیت حسرت. Show all posts

Thursday, 8 October 2026

وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا

 وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا

ورق ورق کو محبت کا باب کر دے گا

اُجالے کے لیے اس کو صدا لگاؤ اب

یہ کام چٹکیوں میں آفتاب کر دے گا

وہ جب بھی دیکھے گا مستی بھری نظر سے مجھے

مرے وجود کو یکسر شراب کر دے گا

Saturday, 18 July 2026

اک یاد سو رہے کو اٹھاتی ہے آج بھی

 اک یاد سو رہے کو اُٹھاتی ہے آج بھی

خُود جاگتی ہے مجھ کو جگاتی ہے آج بھی

یہ کیسی مطربہ ہے جو چُھپ کر جہان سے

دھیمے سُروں میں رات کو گاتی ہے آج بھی

صدیاں گُزر گئیں جسے ڈُوبے ہوئے یہاں

اس کو صدائے شوق بُلاتی ہے آج بھی

Monday, 17 March 2025

اس چمن کا عجیب مالی ہے

 اس چمن کا عجیب مالی ہے

جس نے ہر شاخ کاٹ ڈالی ہے

دن اجالا گنوا کے بیٹھ گیا

رات نے روشنی چرا لی ہے

غم کی عصمت بچی ہوئی تھی مگر

وقت نے وہ بھی روند ڈالی ہے

Thursday, 20 May 2021

مجھ کو پریم کہانی کر دو

 مجھ کو پریم کہانی کر دو

میرا سی دیوانی کر دو

مُرلی کی اک تان سنا کر

رادھا کو مستانی کر دو

آج تو جانے کی ضد چھوڑو

آج تو شام سہانی کر دو

Saturday, 28 November 2020

لب دریا جو پیاسے مر گئے ہیں

 لبِ دریا جو پیاسے مر گئے ہیں

جنوں کا نام روشن کر گئے ہیں

💢حسینیؑ قافلہ جب یاد آیا

کٹورے آنسوؤں سے بھر گئے ہیں

جنہیں سورج نے بھی دیکھا نہ ہو گا

وہ ننگے پاؤں ننگے سر گئے ہیں