وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا
ورق ورق کو محبت کا باب کر دے گا
اُجالے کے لیے اس کو صدا لگاؤ اب
یہ کام چٹکیوں میں آفتاب کر دے گا
وہ جب بھی دیکھے گا مستی بھری نظر سے مجھے
مرے وجود کو یکسر شراب کر دے گا
وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا
ورق ورق کو محبت کا باب کر دے گا
اُجالے کے لیے اس کو صدا لگاؤ اب
یہ کام چٹکیوں میں آفتاب کر دے گا
وہ جب بھی دیکھے گا مستی بھری نظر سے مجھے
مرے وجود کو یکسر شراب کر دے گا
اک یاد سو رہے کو اُٹھاتی ہے آج بھی
خُود جاگتی ہے مجھ کو جگاتی ہے آج بھی
یہ کیسی مطربہ ہے جو چُھپ کر جہان سے
دھیمے سُروں میں رات کو گاتی ہے آج بھی
صدیاں گُزر گئیں جسے ڈُوبے ہوئے یہاں
اس کو صدائے شوق بُلاتی ہے آج بھی
اس چمن کا عجیب مالی ہے
جس نے ہر شاخ کاٹ ڈالی ہے
دن اجالا گنوا کے بیٹھ گیا
رات نے روشنی چرا لی ہے
غم کی عصمت بچی ہوئی تھی مگر
وقت نے وہ بھی روند ڈالی ہے
مجھ کو پریم کہانی کر دو
میرا سی دیوانی کر دو
مُرلی کی اک تان سنا کر
رادھا کو مستانی کر دو
آج تو جانے کی ضد چھوڑو
آج تو شام سہانی کر دو
لبِ دریا جو پیاسے مر گئے ہیں
جنوں کا نام روشن کر گئے ہیں
💢حسینیؑ قافلہ جب یاد آیا
کٹورے آنسوؤں سے بھر گئے ہیں
جنہیں سورج نے بھی دیکھا نہ ہو گا
وہ ننگے پاؤں ننگے سر گئے ہیں