عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خاک جب آپ کے زیرِ کفِ پا آتی ہے
خود نمائی پہ ستاروں کو حیا آتی ہے
ایک در خُلد میں ایسا ہے مقدر والا
جس کو کھولیں تو مدینے کی ہوا آتی ہے
پھر کہیں جاکہ زمانے میں ضیا بانٹتی ہے
چاندنی پہلے پہل غارِ حِرا آتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خاک جب آپ کے زیرِ کفِ پا آتی ہے
خود نمائی پہ ستاروں کو حیا آتی ہے
ایک در خُلد میں ایسا ہے مقدر والا
جس کو کھولیں تو مدینے کی ہوا آتی ہے
پھر کہیں جاکہ زمانے میں ضیا بانٹتی ہے
چاندنی پہلے پہل غارِ حِرا آتی ہے
اِک مجمعِ کثیر میں چُھپتا ہوا چراغ
اِک دوسرے چراغ کی لو اوڑھتے ہوئے
سمجھا رہا ہے آخری حُجت کے طور پر
لوگوں کو روشنی کی وراثت کا مسئلہ
اور چند چہرے ہیں کہ جنہیں تِیرگی کا غم
پہلوئے آفتاب میں بھی کھائے جاتا ہے
کُھلی کھڑکی سے دن بھر جھانکتا ہوں
میں ہر چہرے میں تجھ کو ڈھونڈھتا ہوں
تجھے میں کس طرح پہچان پاؤں
کہ اپنے آپ سے نا آشنا ہوں
جہاں انسان پتھر ہو چکے ہیں
میں اس بستی میں کیسے جی رہا ہوں
ہمارے قتل سے پہلے ہماری بات سنو
ہمارے ہاتھ میں خط ہے کماں نہیں کوئی
ہمارے واسطے رستے ہیں صرف رستے ہیں
ہمارے واسطے جائے اماں نہیں کوئی
ہوائے وقت کی رفتار ایسی ظالم ہے
کہ رفتگاں کا کہیں پر نشاں نہیں کوئی
نہیں ہے خوفِ خدا، خوف ہے خدائی کا
یہی سبب ہے دعاؤں کی نارسائی کا
عجیب غم تھا قفس سے لِپٹ کے رونے لگے
تمہارے بعد ملا حکم جب رہائی کا
بچھڑتے وقت اسے ہنس کے کر دیا رُخصت
مگر ملال رہا عمر بھر جدائی کا
گردِ راہ میں بدل رہا ہوں میں
پر تِرے ساتھ چل رہا ہوں میں
دُھند بادل دُھویں کی بات نہیں
وقتِ مغرب ہے، ڈھل رہا ہوں میں
تُو بہت دور ہے یا تیری طرف
اُلٹے قدموں سے چل رہا ہوں میں
جاں کو آفات نہ آفات کو جاں چھوڑتی ہے
مجھ کو اب بھی تیری امید کہاں چھوڑتی ہے
زندگی! تیرا تذبذب تو مری جاں لے گا
تیر کو چھوڑتی ہے نہ تُو کماں چھوڑتی ہے
ہائے کیا آگ تھی وہ جس میں گئی جاں اس کی
مرنے والے کی لحد اب بھی دھواں چھوڑتی ہے