ہمارے قتل سے پہلے ہماری بات سنو
ہمارے ہاتھ میں خط ہے کماں نہیں کوئی
ہمارے واسطے رستے ہیں صرف رستے ہیں
ہمارے واسطے جائے اماں نہیں کوئی
ہوائے وقت کی رفتار ایسی ظالم ہے
کہ رفتگاں کا کہیں پر نشاں نہیں کوئی
میں ایک قبر میں اُکتا گیا تو کیا ہو گا
کہ اس یقین سے آگے گماں نہیں کوئی
تُو چاہتا ہے تجھے کوئی خوبی بتلاؤں
مِرا تو عیب بھی مجھ پر عیاں نہیں کوئی
کوئی نہ آئے یہاں اب، یہاں تو سارے ہیں
کوئی نہ جائے وہاں اب، وہاں نہیں کوئی
علی قائم نقوی
No comments:
Post a Comment