سفر کا ذائقہ اڑتے ہوئے غبار میں تھا
سو گرد ہو کے ہمیشہ میں رہگزار میں تھا
فرار ہونے کی خواہش رہی اسے ہر پل
تمام عمر جو خود ساختہ حصار میں تھا
محل سراؤں پہ قابض تھا لشکرِ غدار
جو بادشاہ تھا اجڑے ہوئے دیار میں تھا
سفر کا ذائقہ اڑتے ہوئے غبار میں تھا
سو گرد ہو کے ہمیشہ میں رہگزار میں تھا
فرار ہونے کی خواہش رہی اسے ہر پل
تمام عمر جو خود ساختہ حصار میں تھا
محل سراؤں پہ قابض تھا لشکرِ غدار
جو بادشاہ تھا اجڑے ہوئے دیار میں تھا
جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی
میں تو آواز ہوں، آواز کی ہجرت کیسی
سننے والوں کی سماعت گئی گویائی بھی
قصہ گو تُو نے سنائی تھی حکایت کیسی
ہم جنوں والے ہیں ہم سے کبھی پوچھو پیارے
دشت کہتے ہیں کسے، دشت کی وحشت کیسی
آسیب سا جیسے مِرے اعصاب سے نکلا
یہ کون دبے پاؤں مِرے خواب سے نکلا
سینے میں دبی چیخ بدن توڑ کے نکلی
یادوں کا دھواں روح کی محراب سے نکلا
جب جال سمیٹا ہے مچھیرے نے علی الصبح
ٹوٹا ہُوا اک چاند بھی تالاب سے نکلا
دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا
رنگ پھیلا ہوا تا حدِ نظر ہے میرا
نہیں معلوم اسے اس کی خبر ہے کہ نہیں
وہ کسی اور کا چہرہ ہے، مگر ہے میرا
تُو نے اس بار تو بس مار ہی ڈالا تھا مجھے
میں ہوں زندہ تو مِری جان! ہنر ہے میرا