Showing posts with label عزیز نبیل. Show all posts
Showing posts with label عزیز نبیل. Show all posts

Wednesday, 22 March 2023

سفر کا ذائقہ اڑتے ہوئے غبار میں تھا

 سفر کا ذائقہ اڑتے ہوئے غبار میں تھا

سو گرد ہو کے ہمیشہ میں رہگزار میں تھا

فرار ہونے کی خواہش رہی اسے ہر پل

تمام عمر جو خود ساختہ حصار میں تھا

محل سراؤں پہ قابض تھا لشکرِ غدار 

جو بادشاہ تھا اجڑے ہوئے دیار میں تھا

Thursday, 2 September 2021

جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی

 جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی

میں تو آواز ہوں، آواز کی ہجرت کیسی

سننے والوں کی سماعت گئی گویائی بھی

قصہ گو تُو نے سنائی تھی حکایت کیسی

ہم جنوں والے ہیں ہم سے کبھی پوچھو پیارے

دشت کہتے ہیں کسے، دشت کی وحشت کیسی

Wednesday, 7 July 2021

آسیب سا جیسے مرے اعصاب سے نکلا

 آسیب سا جیسے مِرے اعصاب سے نکلا

یہ کون دبے پاؤں مِرے خواب سے نکلا

سینے میں دبی چیخ بدن توڑ کے نکلی

یادوں کا دھواں روح کی محراب سے نکلا

جب جال سمیٹا ہے مچھیرے نے علی الصبح

ٹوٹا ہُوا اک چاند بھی تالاب سے نکلا

Sunday, 27 December 2020

دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا

 دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا

رنگ پھیلا ہوا تا حدِ نظر ہے میرا

نہیں معلوم اسے اس کی خبر ہے کہ نہیں

وہ کسی اور کا چہرہ ہے، مگر ہے میرا

تُو نے اس بار تو بس مار ہی ڈالا تھا مجھے

میں ہوں زندہ تو مِری جان! ہنر ہے میرا

Thursday, 16 October 2014

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے
سب باتیں پھولوں جیسی ہیں، آواز مدھر شہنائی ہے
یہ بوندیں پہلی بارش کی، یہ سوندھی خوشبو ماٹی کی
اک کوئل باغ میں کُوکی ہے، آواز یہاں تک آئی ہے
بدنام بہت ہے راہگزر، خاموش نظر، بے چین سفر
اب گرد جمی ہے آنکھوں میں اور دور تلک رُسوائی ہے

خاک ہونے سے مجھے اس نے بچایا بھی نہیں

خاک ہونے سے مجھے اس نے بچایا بھی نہیں
ہو چکا خاک تو پھونکوں سے اڑایا بھی نہیں
لٹنے والا میں عجب ہوں کہ بڑی عجلت میں
لٹ گیا اور کوئی شور مچایا بھی نہیں
ایک تصویر جو لفظوں سے بنا رکھی ہے
ایک چہرہ جو خیالوں سے مٹایا بھی نہیں

اے زندگی یہ کیا ہوا تو ہی بتا تھوڑا بہت

اے زندگی یہ کیا ہوا تو ہی بتا تھوڑا بہت
وہ بھی بہت ناراض ہے میں بھی خفا تھوڑا بہت
منزل ہماری کیا ہوئی یہ کس جہاں میں آ گئے
اب سوچنا پیشہ ہوا، کہنا رہا تھوڑا بہت
نامہرباں ہر راستہ اور بے وفا اک اک گلی
ہم کھو گئے اِس شہر میں رستہ ملا تھوڑا بہت

نئے سفر کی مسافت سے خوف آتا ہے

نئے سفر کی مسافت سے خوف آتا ہے
مرے قبیلے کو ہجرت سے خوف آتا ہے
تمام شہر کو تاریکیوں سے شکوہ ہے
مگر چراغ کی بیعت سے خوف آتا ہے
سفر بھی طے نہ ہوا، بادبان بھی نہ رہا
ہوا کی ایسی حمایت سے خوف آتا ہے

ہمارے جیسا کوئی بھی سخن پرست نہیں

ہمارے جیسا کوئی بھی سخن پرست نہیں
شکستہ جسم ہیں، آواز میں شکست نہیں
سکوتِ شب ترے پہلو سے اب کہاں جائیں 
قلندروں کا کہیں اور بند و بست نہیں
فراعنہ ہیں تعاقب میں، سامنے دریا
ہمارے ساتھ کوئی بھی عصا بدست نہیں

Friday, 25 April 2014

مرا سوال ہے اے قاتلان شب تم سے

مرا سوال ہے اے قاتلانِ شب تم سے
کہ یہ زمین منوّر ہوئی ہے کب تم سے
چراغ بخشے گئے شہرِ بے بصارت کو
یہ کارِ خیر بھی سرزد ہوا عجب تم سے
مرے خطاب کی شدّت پہ چیخنے والو
تمہارے لہجے میں گویا ہوا ہوں اب تم سے

یہ کس مقام پہ لایا گیا خدایا مجھے

یہ کس مقام پہ لایا گیا خدایا مجھے
کہ آج روند کے گزرا ہے میرا سایہ مجھے
میں جیسے وقت کے ہاتھوں میں اک خزانہ تھا
کسی نے کھو دیا مجھ کو، کسی نے پایا مجھے
اک آرزو کے تعاقب میں یوں ہوا ہے نبیلؔ
ہوا نے ریت کی پلکوں پہ لا بٹھایا مجھے

میں اپنے گرد لکیریں بچھائے بیٹھا ہوں

میں اپنے گرد لکیریں بچھائے بیٹھا ہوں
سرائے درد میں ڈیرہ جمائے بیٹھا ہوں
نبیلؔ ریت میں سِکّے تلاش کرتے ہوئے
میں اپنی پوری جوانی گنوائے بیٹھا ہوں
جو لوگ درد کے گاہک ہیں سامنے آئیں
ہر ایک زخم سے پردہ اٹھائے بیٹھا ہوں

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے
خیال شعر میں ڈھلتے ہوئے جھجک رہے تھے
نہ جانے کس کے قدم چُومنے کی حسرت میں
تمام راستے دل کی طرح دھڑک رہے تھے
کوئی جواب نہ سورج میں تھا نہ چاند کے پاس
مرے سوال سرِ آسماں چمک رہے تھے

جستجو حیران بازاروں کے بیچ

جستجو حیران بازاروں کے بیچ
کھو گئے ہیں راستے کاروں کے بیچ
تنگ ہوتی جا رہی ہے یہ زمیں
سر نکل آئے ہیں دیواروں کے بیچ
ہر طرف آلودگی ماحول میں
جنگ چھڑ جائے نہ سیّاروں کے بیچ