جنوں میں موجِ برق کا جو رخ ذرا بدل گیا
غبارِ نور شعلہ بار پیکروں میں ڈھل گیا
خودی کی جب ہوا چلی تو سب کا دل مچل گیا
کوئی اِدھر نکل گیا، کوئی اُدھر نکل گیا
ابھی چھڑا نہیں ربابِ داستان زندگی
عدم کی گرد میں نہاں ہے کاروان زندگی
جنوں میں موجِ برق کا جو رخ ذرا بدل گیا
غبارِ نور شعلہ بار پیکروں میں ڈھل گیا
خودی کی جب ہوا چلی تو سب کا دل مچل گیا
کوئی اِدھر نکل گیا، کوئی اُدھر نکل گیا
ابھی چھڑا نہیں ربابِ داستان زندگی
عدم کی گرد میں نہاں ہے کاروان زندگی