Showing posts with label سکندر علی وجد. Show all posts
Showing posts with label سکندر علی وجد. Show all posts

Wednesday, 10 March 2021

جنوں میں موج برق کا جو رخ ذرا بدل گیا

جنوں میں موجِ برق کا جو رخ ذرا بدل گیا

غبارِ نور شعلہ بار پیکروں میں ڈھل گیا

خودی کی جب ہوا چلی تو سب کا دل مچل گیا

کوئی اِدھر نکل گیا، کوئی اُدھر نکل گیا

ابھی چھڑا نہیں ربابِ داستان زندگی

عدم کی گرد میں نہاں ہے کاروان زندگی

Saturday, 11 February 2017

رفتہ رفتہ ہر جگہ الفت کے افسانے گئے

رفتہ رفتہ ہر جگہ الفت کے افسانے گئے
میرا نام آتے ہی وہ محفل میں پہچانے گئے
کہکشاں گردِ سفر ہے، مہر و مہ زیرِ قدم 
وقت کے صحرا میں کتنی دور دیوانے گئے
ایک ہی منزل تھی لیکن راستے میں دور تک
شہر ان کے ساتھ، میرے ساتھ ویرانے گئے

ذرا مسکرایا جو ساقی سنبھل کے

ذرا مسکرایا جو ساقی سنبھل کے
کئی ہاتھ کانپے کئی جام چھلکے
وہ آئے مِرے پاس کانٹوں پہ چل کے
غمِ زندگی رہ گیا ہاتھ مَل کے
تصرف ہے اے وجؔد کس گلبدن کا
مہکتے ہیں اشعار تیری غزل کے

تیرے پاس آنے کو جی چاہتا ہے

تیرے پاس آنے کو جی چاہتا ہے
نئے زخم کھانے کو جی چاہتا ہے
ادھر آئے شاید وہ موجِ ترنم
غزل گنگنانے کو جی چاہتا ہے
زمانہ میرا آزمایا ہوا ہے
تجھے آزمانے کو جی چاہتا ہے

خوش جمالوں کی یاد آتی ہے

خوش جمالوں کی یاد آتی ہے
بے مثالوں کی یاد آتی ہے
باعثِ رشکِ مہر و ماہ تھے جو
ان ہلالوں کی یاد آتی ہے
جن سے دنیائے دل منور تھی
ان اجالوں کی یاد آتی ہے

Thursday, 19 January 2017

مسکراؤ خوشی کی بات کرو

مسکراؤ، خوشی کی بات کرو
رونے والو! ہنسی کی بات کرو
یہ اندھیرے کے تذکرے کب تک
دوستو! روشنی کی بات کرو
خونفشاں موت آئے گی اک دن
گل فشاں زندگی کی بات کرو

مزدوروں کا پیغام نونہالان چمن اہل ہنر جاتے ہیں

مزدوروں کا پیغام

نونہالانِ چمن، اہلِ ہنر جاتے ہیں
جوشِ زن قلب میں ہے شوقِ سفر جاتے ہیں
صورتِ خاک رہے مثلِ شرر جاتے ہیں
یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ کدھر جاتے ہیں
لو چلا قافلہ کوہکنِ خانہ بدوش
کل سے ہو جائیں گی تیشوں کی صدائیں خاموش

شوق کی نکتہ دانیاں نہ گئیں

شوق کی نکتہ دانیاں نہ گئیں
رات بیتی،۔ کہانیاں نہ گئیں
حسن نے دی ہزار بار شکست
عشق کی لنترانیاں نہ گئیں
نقش بن بن کے رہ گئیں دل میں
سرسری نوجوانیاں نہ گئیں

Thursday, 8 December 2016

رنگ لایا دوانہ پن میرا

رنگ لایا دِوانہ پن میرا
سی رہے ہیں وہ پیرہن میرا
میں نویدِ بہار لایا تھا
تذکرہ ہر چمن چمن میرا
شبنمِ فکر و گلستانِ سخن
جگمگاتا ہے پھولبن میرا

ظلمت شب ہی سحر ہو جائے گی

ظلمتِ شب ہی سحر ہو جائے گی
شدتِ غم چارہ گر ہو جائے گی
رونے والے یوں مصیبت پر نہ رو
زندگی اک دردِ سر ہو جائے گی
بعد تعمیرِ مکاں، زنجیرِ غم
الفتِ دیوار و در ہو جائے گی

Tuesday, 29 March 2016

خوشی یاد آئی یا غم یاد آئے

خوشی یاد آئی یا غم یاد آئے
محبت کے ناز و نعم  یاد آئے
یہ کیوں دم بہ دم ہچکیاں آ رہی ہیں
کِیا یاد تم نے،۔ یا ہم یاد آئے
گلوں کی روش دیکھ کر گلستاں میں
شہیدوں کے نقشِ قدم یاد آئے

نگاہوں سے دل میں سمائے چلا جا

نگاہوں سے دل میں سمائے چلا جا
یونہی میری ہستی پہ چھائے چلا جا
مِرا ذوق ہے معرضِ گفتگو میں
ذرا رخ سے آنچل ہٹائے چلا جا
ابھی زندگی کے ہیں کچھ سانس باقی
چراغِ سحر جھلملائے چلا جا

ان کے جلوے کام اپنا کر گئے

ان کے جلوے کام اپنا کر گئے
ہم ہجومِ آرزو سے ڈر گئے
کیا مزا ہے تجھ میں اب اے زندگی
دوستی کے زخم سارے بھر گئے
مےکدے میں سر جھکائے شیخ جی
خشک لب آئے، دامن تر گئے

شمیم زلف یار آئے نہ آئے

شمیمِ زلف یار آئے نہ آئے
مِرے دل کو قرار آئے نہ آئے
ابھی ہوش آیا ہے اے یادِ جنوں
نہ تڑپا بار بار آئے نہ آئے
چراغِ زندگانی بجھ رہا ہے
وہ جانِ انتظار آئے نہ آئے

Monday, 14 March 2016

درد کو نیچا دکھانا آ گیا

درد کو نیچا دکھانا آ گیا
چوٹ کھا کر مسکرانا آ گیا
مرثیہ خوانی سے اب گھٹتا ہے دم
زندگی کا گیت گانا آ گیا
رنجِ ناکامی سے دل بجھتا نہیں
وقت سے زور آزمانا آ گیا

عمر جینے میں جو گنوائی ہے

عمر جینے میں جو گنوائی ہے
بس وہی اپنے کام آئی ہے
قیدِ الفت سے بھاگنے والو
یہ اسیری نہیں رہائی ہے
بارہا حسن کے تبسم نے
درد و غم کی جھلک دکھائی ہے

دل کی بستی عجیب بستی ہے

دل کی بستی عجیب بستی ہے
یہ اجڑنے کے بعد بستی ہے
ابرِ نِیساں برس کے نہ ہو خجل
چشمِ ساقی سے مے برستی ہے
سارا عالم ہے خواب کا عالم
ساری ہستی، فریبِ ہستی ہے

زہر غم ہنس ہنس کے پینا چاہیے

زہرِ غم ہنس ہنس کے پینا  چاہیے
موت آنے تک تو جینا چاہیے
ایک تنکا ڈوبتے کا آسرا
کون کہتا ہے سفینا چاہیے
حسن کے جلووں سے جی بھرتا نہیں
ہر قدم پر طورِ سینا چاہیے