مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے
لفظ تاریخ کے پہلے ہی صدا کر گئے تھے
اس نے جو بام پہ آ جانے کی زحمت کی تھی
ہم انا گیر بھی دیوار گِرا کر گئے تھے
زیرِلب جلتے ہوئے شکوے تھے کتنے لیکن
روبرو یار کے آواز بُجھا کر گئے تھے
مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے
لفظ تاریخ کے پہلے ہی صدا کر گئے تھے
اس نے جو بام پہ آ جانے کی زحمت کی تھی
ہم انا گیر بھی دیوار گِرا کر گئے تھے
زیرِلب جلتے ہوئے شکوے تھے کتنے لیکن
روبرو یار کے آواز بُجھا کر گئے تھے
خام ہو سکتا ہے لاچار بھی ہو سکتا ہے
یہ نکمّا تجھے درکار بھی ہو سکتا ہے
وقتِ وحشت ہے مجھے حسن کی خیرات نہ دے
ایسی بے زاری میں انکار بھی ہو سکتا ہے
نیتاً بھی نظر اٹھ سکتی ہے تیری جانب
اور یہ سلسلہ خودکار بھی ہو سکتا ہے
ہر قدم سایۂ اشجار تھکا دیتا ہے
راستہ جو نہ ہو دشوار تھکا دیتا ہے
جس کا جی زخم کے بھر جانے پہ راضی ہی نہ ہو
چارہ سازوں کو وہ بیمار تھکا دیتا ہے
دیکھنے والا نظر باز بلا کا ہو بھی
تیرے رُخسار کا تل، یار! تھکا دیتا ہے
بوجھ ایسا ہے کہ شانوں کو جھکا بیٹھے ہیں
مجتمع کر کے تِرے در پہ انا بیٹھے ہیں
ہم نے اک درجۂ حیرت میں تجھے پایا تھا
اور اک درجۂ حیرت میں گنوا بیٹھے ہیں
حاضری قیس قبیلے کی سرِ دشت ہوئی
ہم نے بھی ہاتھ اٹھا کر کے کہا؛ بیٹھے ہیں
ہم جو بے پرسشِ احوال پڑے رہتے ہیں
تال ملتی نہیں، بے تال پڑے رہتے ہیں
عاشقی لفظ تغیّر سے شناسا کب ہے
ایک لمحے میں مہ و سال پڑے رہتے ہیں
یہ محافل کے تقدس کی عملداری ہے
ہم سے خود سر، سرِ پاتال پڑے رہتے ہیں