Showing posts with label عقیل اختر. Show all posts
Showing posts with label عقیل اختر. Show all posts

Tuesday, 2 August 2022

مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے

 مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے

لفظ تاریخ کے پہلے ہی صدا کر گئے تھے

اس نے جو بام پہ آ جانے کی زحمت کی تھی

ہم انا گیر بھی دیوار گِرا کر گئے تھے

زیرِلب جلتے ہوئے شکوے تھے کتنے لیکن

روبرو یار کے آواز بُجھا کر گئے تھے

Tuesday, 30 November 2021

خام ہو سکتا ہے لاچار بھی ہو سکتا ہے

 خام ہو سکتا ہے لاچار بھی ہو سکتا ہے

یہ نکمّا تجھے درکار بھی ہو سکتا ہے

وقتِ وحشت ہے مجھے حسن کی خیرات نہ دے

ایسی بے زاری میں انکار بھی ہو سکتا ہے

نیتاً بھی نظر اٹھ سکتی ہے تیری جانب

اور یہ سلسلہ خودکار بھی ہو سکتا ہے

Sunday, 28 November 2021

ہر قدم سایۂ اشجار تھکا دیتا ہے

 ہر قدم سایۂ اشجار تھکا دیتا ہے

راستہ جو نہ ہو دشوار تھکا دیتا ہے

جس کا جی زخم کے بھر جانے پہ راضی ہی نہ ہو

چارہ سازوں کو وہ بیمار تھکا دیتا ہے

دیکھنے والا نظر باز بلا کا ہو بھی

تیرے رُخسار کا تل، یار! تھکا دیتا ہے

Sunday, 21 November 2021

بوجھ ایسا ہے کہ شانوں کو جھکا بیٹھے ہیں

 بوجھ ایسا ہے کہ شانوں کو جھکا بیٹھے ہیں

مجتمع کر کے تِرے در پہ انا بیٹھے ہیں

ہم نے اک درجۂ حیرت میں تجھے پایا تھا

اور اک درجۂ حیرت میں گنوا بیٹھے ہیں

حاضری قیس قبیلے کی سرِ دشت ہوئی

ہم نے بھی ہاتھ اٹھا کر کے کہا؛ بیٹھے ہیں

Tuesday, 14 September 2021

ہم جو بے پرسش احوال پڑے رہتے ہیں

 ہم جو بے پرسشِ احوال پڑے رہتے ہیں

تال ملتی نہیں، بے تال پڑے رہتے ہیں

عاشقی لفظ تغیّر سے شناسا کب ہے

ایک لمحے میں مہ و سال پڑے رہتے ہیں

یہ محافل کے تقدس کی عملداری ہے

ہم سے خود سر، سرِ پاتال پڑے رہتے ہیں