Showing posts with label احمد عقیل روبی. Show all posts
Showing posts with label احمد عقیل روبی. Show all posts

Sunday, 24 October 2021

مسافروں کا یہی اک نشان ملتا ہے

 مسافروں کا یہی اک نشان ملتا ہے

لہو میں بھیگا ہوا اک بادبان ملتا ہے

زمیں گھٹنوں پہ سر رکھے خون روتی ہے

قریب بیٹھا ہوا آسمان ملتا ہے

طلب ہے جس کی وہ اک عمر سے نہیں ملتا

نہیں ہے جس کی طلب، روز آن ملتا ہے

Saturday, 23 October 2021

(عورتیں) مرد کہتے ہیں تمام برائیوں کی جڑ ہم ہیں

 مرد کہتے ہیں تمام برائیوں کی جڑ ہم ہیں

عورتیں جنگ، جھگڑے، قتل و غارت کا باعث ہیں

ہم جھگڑالو ہیں، ہم تکلیف دہ ہیں

زمیں پر سب بُرائیاں ہم سے ہیں

تو پھر مرد ہمیں حاصل  کرنے کے لیے

اتنے بے تاب کیوں ہیں؟

Friday, 22 October 2021

منا لو جشن کہ یہ جنگ جیت لی تم نے

 منا لو جشن کہ یہ جنگ جیت لی تم نے

وہ حرفِ لوحِ جہاں سے مٹا دیا آخر

جسے تمہاری نگاہیں غلط سمجھتی تھیں

مسل کے پھول سمجھتے ہو، مر گئی خوشبو

مٹا کے حرف سمجھتے ہو داستان نہ رہی

بدن کو مار کے خوش ہو کہ کھیل ختم ہوا

Saturday, 10 July 2021

صحرا کی گرم ریت میں اشجار دیکھ کر

 صحرا کی گرم ریت میں اشجار دیکھ کر

بڑھنے لگا جنوں گل و گلزار دیکھ کر

اس عہدِ سوگوار میں، عہدِ خزاں میں جان

ہم خوش ہیں تیرے پھول سے رخسار دیکھ کر

جب جانتے ہیں، جیت کا معیار ہے کچھ اور

پھر فیصلہ ہی کیوں کریں رفتار دیکھ کر؟

Thursday, 8 July 2021

شب کا اندھیرا ان پلکوں میں سوتا رہتا ہے

 شب کا اندھیرا ان پلکوں میں سوتا رہتا ہے

سورج اس کو دیکھ کے آنکھیں ملتا رہتا ہے

کچھ بھی نہیں ہے لیکن سب کچھ ہے اس چہرے میں

میں سنتا رہتا ہوں، یہ دل کہتا رہتا ہے

دل آنگن میں درد کی کائی جمتی رہتی ہے

سانس کا بالک اس کائی پر چلتا رہتا ہے