مسافروں کا یہی اک نشان ملتا ہے
لہو میں بھیگا ہوا اک بادبان ملتا ہے
زمیں گھٹنوں پہ سر رکھے خون روتی ہے
قریب بیٹھا ہوا آسمان ملتا ہے
طلب ہے جس کی وہ اک عمر سے نہیں ملتا
نہیں ہے جس کی طلب، روز آن ملتا ہے
مسافروں کا یہی اک نشان ملتا ہے
لہو میں بھیگا ہوا اک بادبان ملتا ہے
زمیں گھٹنوں پہ سر رکھے خون روتی ہے
قریب بیٹھا ہوا آسمان ملتا ہے
طلب ہے جس کی وہ اک عمر سے نہیں ملتا
نہیں ہے جس کی طلب، روز آن ملتا ہے
مرد کہتے ہیں تمام برائیوں کی جڑ ہم ہیں
عورتیں جنگ، جھگڑے، قتل و غارت کا باعث ہیں
ہم جھگڑالو ہیں، ہم تکلیف دہ ہیں
زمیں پر سب بُرائیاں ہم سے ہیں
تو پھر مرد ہمیں حاصل کرنے کے لیے
اتنے بے تاب کیوں ہیں؟
منا لو جشن کہ یہ جنگ جیت لی تم نے
وہ حرفِ لوحِ جہاں سے مٹا دیا آخر
جسے تمہاری نگاہیں غلط سمجھتی تھیں
مسل کے پھول سمجھتے ہو، مر گئی خوشبو
مٹا کے حرف سمجھتے ہو داستان نہ رہی
بدن کو مار کے خوش ہو کہ کھیل ختم ہوا
صحرا کی گرم ریت میں اشجار دیکھ کر
بڑھنے لگا جنوں گل و گلزار دیکھ کر
اس عہدِ سوگوار میں، عہدِ خزاں میں جان
ہم خوش ہیں تیرے پھول سے رخسار دیکھ کر
جب جانتے ہیں، جیت کا معیار ہے کچھ اور
پھر فیصلہ ہی کیوں کریں رفتار دیکھ کر؟
شب کا اندھیرا ان پلکوں میں سوتا رہتا ہے
سورج اس کو دیکھ کے آنکھیں ملتا رہتا ہے
کچھ بھی نہیں ہے لیکن سب کچھ ہے اس چہرے میں
میں سنتا رہتا ہوں، یہ دل کہتا رہتا ہے
دل آنگن میں درد کی کائی جمتی رہتی ہے
سانس کا بالک اس کائی پر چلتا رہتا ہے