Thursday, 8 July 2021

شب کا اندھیرا ان پلکوں میں سوتا رہتا ہے

 شب کا اندھیرا ان پلکوں میں سوتا رہتا ہے

سورج اس کو دیکھ کے آنکھیں ملتا رہتا ہے

کچھ بھی نہیں ہے لیکن سب کچھ ہے اس چہرے میں

میں سنتا رہتا ہوں، یہ دل کہتا رہتا ہے

دل آنگن میں درد کی کائی جمتی رہتی ہے

سانس کا بالک اس کائی پر چلتا رہتا ہے

لمحہ لمحہ سکھ کی پونجی کھلتی رہتی ہے

لمحہ لمحہ خطرہ سر سے ٹلتا رہتا ہے

سب رخصت ہو جاتے ہیں جب رات گئے روبی

غم کا ایک پرانا خادم بیٹھا رہتا ہے


احمد عقیل روبی

No comments:

Post a Comment