شب کا اندھیرا ان پلکوں میں سوتا رہتا ہے
سورج اس کو دیکھ کے آنکھیں ملتا رہتا ہے
کچھ بھی نہیں ہے لیکن سب کچھ ہے اس چہرے میں
میں سنتا رہتا ہوں، یہ دل کہتا رہتا ہے
دل آنگن میں درد کی کائی جمتی رہتی ہے
سانس کا بالک اس کائی پر چلتا رہتا ہے
لمحہ لمحہ سکھ کی پونجی کھلتی رہتی ہے
لمحہ لمحہ خطرہ سر سے ٹلتا رہتا ہے
سب رخصت ہو جاتے ہیں جب رات گئے روبی
غم کا ایک پرانا خادم بیٹھا رہتا ہے
احمد عقیل روبی
No comments:
Post a Comment