Showing posts with label توقیر علی. Show all posts
Showing posts with label توقیر علی. Show all posts

Tuesday, 18 June 2024

مری سوچ کا یہ محور مرے شوق کا قرینہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِری سوچ کا یہ محور، مِرے شوق کا قرینہ

جہاں سر جُھکے وہ کعبہ، جہاں دل جُھکے وہ مدینہ

مِری اولین تمنّا،۔ مِرا آخری تقاضا

مِری جاں میں جاں ہے جب تک، رہے رُوبرو مدینہ

درِ شاہِ دو سراﷺ پر، کھڑے ہو کر دست بستہ

مِرا ذکر بھی کیا ناں! مِری بات بھی کہی نا

Monday, 17 June 2024

کچھ کرشمے بھی بام در میں تھے

 کچھ کرشمے بھی بام در میں تھے

سو مناظر مِری نظر میں تھے

دو جہاں حیطۂ نظر میں تھے

ہم بظاہر تو اپنے گھر میں تھے

وہ کسی اور انجمن میں تھا

ہم کسی اور رہگزر میں تھے

Saturday, 15 June 2024

رات آنکھوں میں بسر ہو تو غزل ہوتی ہے

 رات آنکھوں میں بسر ہو تو غزل ہوتی ہے

تیری یادوں میں سحر ہو تو غزل ہوتی ہے

جذبِ دل، ذوقِ نظر ہو تو غزل ہوتی ہے

ہر قدم محوِ سفر ہو تو غزل ہوتی ہے

کچھ نہیں ہے تو یہی خونِ تمنا ہی سہی

جب قلم خون میں تر ہو تو غزل ہوتی ہے

Sunday, 9 October 2022

پہاڑوں سے پگھلتا جا رہا ہوں

پہاڑوں سے پگھلتا جا رہا ہوں

سمندر میں اترتا جا رہا ہوں

مِرے ساتھی بچھڑتے جا رہے ہیں

سُوئے منزل اکیلا جا رہا ہوں

معمّہ تھی مِری ہستی، مگر اب

میں سوچا اور سمجھا جا رہا ہوں