ہم اور نگر کے باسی ہیں ہمیں دل کے پاس نہ رکھیں آپ
جو آپ کو ٹوٹ کے چاہا کرے، کوئی ساتھی ایسا دیکھیں آپ
ہم کہاں ہیں چاہت کے لائق، ہمیں پیار کے خط مت لکھا کریں
یادوں کے سلگتے صحرا میں، برباد نہ خود کو کیا کریں
جب وصل کا کچھ امکاں نہیں، پھر ہجر میں یوں نہ جلا کریں
ہم جو کچھ آپ سے کہتے ہیں، اسے ٹھنڈے دل سے سوچیں آپ