Showing posts with label سعید واثق. Show all posts
Showing posts with label سعید واثق. Show all posts

Monday, 31 January 2022

ہم اور نگر کے باسی ہیں ہمیں دل کے پاس نہ رکھیں آپ

 ہم اور نگر کے باسی ہیں ہمیں دل کے پاس نہ رکھیں آپ

جو آپ کو ٹوٹ کے چاہا کرے، کوئی ساتھی ایسا دیکھیں آپ


ہم کہاں ہیں چاہت کے لائق، ہمیں پیار کے خط مت لکھا کریں

یادوں کے سلگتے صحرا میں، برباد نہ خود کو کیا کریں

جب وصل کا کچھ امکاں نہیں، پھر ہجر میں یوں نہ جلا کریں

ہم جو کچھ آپ سے کہتے ہیں، اسے ٹھنڈے دل سے سوچیں آپ

ہیں آنکھیں جھیل سی چہرہ کتاب جیسا ہے

 ہیں آنکھیں جھیل سی، چہرہ کتاب جیسا ہے

کہ میرے یار کا ہر نقش خواب جیسا ہے

کسی بھی بات پر اب بھیگتی نہیں آنکھیں

کہ اپنا حال بھی سوکھے چناب جیسا ہے

یہ آرزو ہے کبھی تو اندھیری شب میں ملے

وہ ایک شخص کہ جو ماہتاب جیسا ہے

Friday, 28 January 2022

خواہش ہے کہ اس طور سے جیون کو گزاروں

 خواہش ہے کہ اس طور سے جیون کو گزاروں

ہر عکس تِرے حسن کا آنکھوں میں اتاروں

وہ تشنہ لبی ہے کہ سمجھ کچھ نہیں آتا

دریا کو صدا دوں کہ سمندر کو پکاروں

جیون بھی تو الجھی ہوئی ڈوروں کی طرح ہے

اس سوچ میں گم ہوں کہ اسے کیسے سنواروں

Tuesday, 1 December 2020

پیار کے دیپ جلانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں

 پیار کے دیپ جلانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں

اپنی جان سے جانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں

ہجر کے گہرے زخم ملے تو مجھ کو یہ احساس ہوا

پاگل کو سمجھانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں

جان سے پیارے لوگوں سے بھی کچھ کچھ پردہ لازم ہے

ساری بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں

Wednesday, 25 November 2020

ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو

 ہجر میں خون رلاتے ہو، کہاں ہوتے ہو

لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو، کہاں ہوتے ہو

جب بھی ملتا ہے کوئی شخص بہاروں جیسا

مجھ کو تم کیسے بھلاتے ہو، کہاں ہوتے ہو

مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوبِ نظر ہو کس کے

آج کل کس کو مناتے ہو، کہاں ہوتے ہو

Tuesday, 24 November 2020

ہوا کی جو بھی مرضی ہو

 سنو پتھر نہیں ہونا


ہوا کی جو بھی مرضی ہو

مقدر جو بھی کچھ چاہے

زمیں پر چار سُو

رنج و الم کی بارشیں برسیں

تمہارے لب پہ بکھرے سارے نغمے