کیا شکایت ہو بھلا اس سے ہو شکوہ کیسا
وقتِ مشکل جو نہیں اپنا تو اپنا کیسا
مفلسی شہر سے رخصت ہوئے عرصہ گزرا
پھر تِرے شہر میں یہ شور شرابہ کیسا
اب نئے پھول چمن میں بھی نہیں دکھتے ہیں
رنگ چھایا ہے بہاروں پہ خزاں سا کیسا
کیا شکایت ہو بھلا اس سے ہو شکوہ کیسا
وقتِ مشکل جو نہیں اپنا تو اپنا کیسا
مفلسی شہر سے رخصت ہوئے عرصہ گزرا
پھر تِرے شہر میں یہ شور شرابہ کیسا
اب نئے پھول چمن میں بھی نہیں دکھتے ہیں
رنگ چھایا ہے بہاروں پہ خزاں سا کیسا
تیر کا ڈر ہے اور نہ خنجر کا
💢آدمی ہو گیا ہے پتھر کا
جس نے نظروں سے کر دیا گھائل
دل ہے دیوانہ اس فسوں گر کا
دل کے زخموں کو بھر گیا میرے
ہے بہت شکریہ رفوگر کا
اک نظر پیار کی ادھر کر دے
تُو مکمل مِرا سفر کر دے
رُوح کی تشنگی مٹانے کو
اپنی چاہت سے تر بہ تر کر دے
میں مسافر بنوں مدینے کا
مجھ پہ رحمت کی اک نظر کر دے