Showing posts with label تقی ککراوی. Show all posts
Showing posts with label تقی ککراوی. Show all posts

Friday, 30 May 2025

کیا شکایت ہو بھلا اس سے ہو شکوہ کیسا

 کیا شکایت ہو بھلا اس سے ہو شکوہ کیسا

وقتِ مشکل جو نہیں اپنا تو اپنا کیسا

مفلسی شہر سے رخصت ہوئے عرصہ گزرا

پھر تِرے شہر میں یہ شور شرابہ کیسا

اب نئے پھول چمن میں بھی نہیں دکھتے ہیں

رنگ چھایا ہے بہاروں پہ خزاں سا کیسا

Wednesday, 27 April 2022

تیر کا ڈر ہے اور نہ خنجر کا

تیر کا ڈر ہے اور نہ خنجر کا

💢آدمی ہو گیا ہے پتھر کا

جس نے نظروں سے کر دیا گھائل

دل ہے دیوانہ اس فسوں گر کا

دل کے زخموں کو بھر گیا میرے

ہے بہت شکریہ رفوگر کا

Sunday, 23 May 2021

اک نظر پیار کی ادھر کر دے

اک نظر پیار کی ادھر کر دے

تُو مکمل مِرا سفر کر دے

رُوح کی تشنگی مٹانے کو

اپنی چاہت سے تر بہ تر کر دے

میں مسافر بنوں مدینے کا

مجھ پہ رحمت کی اک نظر کر دے