Showing posts with label معوذ حسن. Show all posts
Showing posts with label معوذ حسن. Show all posts

Monday, 14 November 2022

اداس لوگو اداس چہرو کہاں گئے ہو

 ٹوٹ پھوٹ


اداس لوگو

اداس چہرو

کہاں گئے ہو

حسین شامیں کہاں ہیں اوجھل

حسین مصرعے کہاں گئے ہیں

Tuesday, 13 September 2022

ترے خیال سے باہر نکل کے روتے ہیں

 تِرے خیال سے باہر نکل کے روتے ہیں

فقیر لوگ ہیں تھوڑا سنبھل کے روتے ہیں

ہم اپنے دامنِ وحشت میں ہجر گوندھتے ہیں

ہم ایسے لوگ جو روئیں تو کھل کے روتے ہیں

ہم ایسے لوگ کہانی کی جان ہوتے ہیں

کہ جن کے واسطے پتھر پگھل کے روتے ہیں

Monday, 11 April 2022

خزاں پڑی ہے تو مجھ کو احساس ہو رہا ہے

 پہلی محبت کے نام


خزاں پڑی ہے تو 

مجھ کو احساس ہو رہا ہے

تمہاری آواز اس پرندے کا گھونسلہ تھی

کہ جس کے بچے 

ٹھٹھرتی شاموں کی 

Sunday, 30 January 2022

جانتا ہے زمانہ بچھڑنا حقیقت ہے

 غم کی مینجمنٹ


جانتا ہے زمانہ

بچھڑنا حقیقت ہے

لیکن

ضروری نہیں ہے کہ ہم

اس کا ادراک کر کے

Saturday, 22 January 2022

آنکھوں کی شاہراہ سے دل تک پہنچ گئی

 آنکھوں کی شاہراہ سے دل تک پہنچ گئی

اس دلکشی نے جسم میں اک جنگ چھیڑ دی

میں نے تمہارے حسن کی دیکھی ہے کچھ جھلک

جیسے ہو آدھے چاند پہ سورج کی روشنی

اس نے کسی کے واسطے رد کر دیا مجھے

کچی سڑک کو چھوڑ کے پختہ پہ چل پڑی

Saturday, 15 January 2022

اداس موسم شکستہ چہرے اسیر دکھ ہے اخیر دکھ ہے

 اداس موسم، شکستہ چہرے، اسیر دکھ ہے، اخیر دکھ ہے

فقیر مجھ سے یہ کہہ رہا ہے؛ اخیر دکھ ہے اخیر دکھ ہے

یہ جان لیوا حقیقتیں ہیں کہ ہجر وحشت کی آیتیں ہیں

مجھے لگا داستاں میں رانجھے کو ہیر دکھ ہے اخیر دکھ ہے

میں ایک منظر میں کھو گیا تھا مجھے تو ڈھونڈا ہے حیرتوں نے

مِرے مصور! کمال تیرا کبیر دکھ ہے اخیر دکھ ہے

Friday, 31 December 2021

آپ کے ساتھ خوبصورت ہیں

 آپ کے ساتھ خوبصورت ہیں

سارے لمحات خوبصورت ہیں

وہ مکمل حسین ہیں ایسے

جیسے دیہات خوبصورت ہیں

مجھ سے معدوم ریت نے پوچھا

کیا جمادات خوبصورت ہیں؟

Thursday, 30 December 2021

تمہارا لوگوں کو یہ بتانا کہ میرا رانجھا فلاں فلاں ہے

 تمہارا لوگوں کو یہ بتانا کہ میرا رانجھا فلاں فلاں ہے

ہماری روحوں کے ایک ہونے کی اک شہادت ہے اک نشاں ہے

بچھڑ گیا ہوں جو تجھ سے تو اک اداسی ہے جسم و جاں میں

کہ بِن تمہارے میں کچھ نہیں ہوں ہر ایک لمحہ وبال جاں ہے

ہم اپنی آنکھوں کی بے بسی کو بیان کیسے کریں گے تم بِن

کہ اب ہمیں کون سن رہا ہے، ہمارا اب کون رازداں ہے

Wednesday, 29 December 2021

کسی ہیجانیت میں کھو رہی ہے

کسی ہیجانیت میں کھو رہی ہے

مِری تحریر پاگل ہو رہی ہے

مِری چھوٹی سی دنیا قہقہوں کی 

شکستہ آنسوؤں کو رو رہی ہے 

تعصب ہے، تعفن ہے، گھٹن ہے 

یہ دنیا کیوں کدورت بو رہی ہے

Monday, 27 September 2021

کردار زندگی کی جبینوں میں جڑ گئے

 کردار زندگی کی جبینوں میں جڑ گئے

جس عمدگی کے ساتھ وہ افسانے گھڑ گئے

لہروں کی جنگ ریت کا نقصان کر گئی

اور چودھویں کی رات کو ساحل بچھڑ گئے

وہ شخص اٹھ کے چل دیا جب انکی چھاؤں سے

ہائے، تمام پیڑ جڑوں سے اکھڑ گئے

Wednesday, 30 June 2021

لفظ خاموش ہیں

 لفظ خاموش ہیں

ہمہ تن گوش ہیں

ان میں جادو ہے اک

لوگ بے ہوش ہیں

نظم لفظوں میں بھیگا ہوا خواب ہے

قافیوں کا ردیفوں کا گرداب ہے