ٹوٹ پھوٹ
اداس لوگو
اداس چہرو
کہاں گئے ہو
حسین شامیں کہاں ہیں اوجھل
حسین مصرعے کہاں گئے ہیں
ٹوٹ پھوٹ
اداس لوگو
اداس چہرو
کہاں گئے ہو
حسین شامیں کہاں ہیں اوجھل
حسین مصرعے کہاں گئے ہیں
تِرے خیال سے باہر نکل کے روتے ہیں
فقیر لوگ ہیں تھوڑا سنبھل کے روتے ہیں
ہم اپنے دامنِ وحشت میں ہجر گوندھتے ہیں
ہم ایسے لوگ جو روئیں تو کھل کے روتے ہیں
ہم ایسے لوگ کہانی کی جان ہوتے ہیں
کہ جن کے واسطے پتھر پگھل کے روتے ہیں
پہلی محبت کے نام
خزاں پڑی ہے تو
مجھ کو احساس ہو رہا ہے
تمہاری آواز اس پرندے کا گھونسلہ تھی
کہ جس کے بچے
ٹھٹھرتی شاموں کی
غم کی مینجمنٹ
جانتا ہے زمانہ
بچھڑنا حقیقت ہے
لیکن
ضروری نہیں ہے کہ ہم
اس کا ادراک کر کے
آنکھوں کی شاہراہ سے دل تک پہنچ گئی
اس دلکشی نے جسم میں اک جنگ چھیڑ دی
میں نے تمہارے حسن کی دیکھی ہے کچھ جھلک
جیسے ہو آدھے چاند پہ سورج کی روشنی
اس نے کسی کے واسطے رد کر دیا مجھے
کچی سڑک کو چھوڑ کے پختہ پہ چل پڑی
اداس موسم، شکستہ چہرے، اسیر دکھ ہے، اخیر دکھ ہے
فقیر مجھ سے یہ کہہ رہا ہے؛ اخیر دکھ ہے اخیر دکھ ہے
یہ جان لیوا حقیقتیں ہیں کہ ہجر وحشت کی آیتیں ہیں
مجھے لگا داستاں میں رانجھے کو ہیر دکھ ہے اخیر دکھ ہے
میں ایک منظر میں کھو گیا تھا مجھے تو ڈھونڈا ہے حیرتوں نے
مِرے مصور! کمال تیرا کبیر دکھ ہے اخیر دکھ ہے
آپ کے ساتھ خوبصورت ہیں
سارے لمحات خوبصورت ہیں
وہ مکمل حسین ہیں ایسے
جیسے دیہات خوبصورت ہیں
مجھ سے معدوم ریت نے پوچھا
کیا جمادات خوبصورت ہیں؟
تمہارا لوگوں کو یہ بتانا کہ میرا رانجھا فلاں فلاں ہے
ہماری روحوں کے ایک ہونے کی اک شہادت ہے اک نشاں ہے
بچھڑ گیا ہوں جو تجھ سے تو اک اداسی ہے جسم و جاں میں
کہ بِن تمہارے میں کچھ نہیں ہوں ہر ایک لمحہ وبال جاں ہے
ہم اپنی آنکھوں کی بے بسی کو بیان کیسے کریں گے تم بِن
کہ اب ہمیں کون سن رہا ہے، ہمارا اب کون رازداں ہے
کسی ہیجانیت میں کھو رہی ہے
مِری تحریر پاگل ہو رہی ہے
مِری چھوٹی سی دنیا قہقہوں کی
شکستہ آنسوؤں کو رو رہی ہے
تعصب ہے، تعفن ہے، گھٹن ہے
یہ دنیا کیوں کدورت بو رہی ہے
کردار زندگی کی جبینوں میں جڑ گئے
جس عمدگی کے ساتھ وہ افسانے گھڑ گئے
لہروں کی جنگ ریت کا نقصان کر گئی
اور چودھویں کی رات کو ساحل بچھڑ گئے
وہ شخص اٹھ کے چل دیا جب انکی چھاؤں سے
ہائے، تمام پیڑ جڑوں سے اکھڑ گئے
لفظ خاموش ہیں
ہمہ تن گوش ہیں
ان میں جادو ہے اک
لوگ بے ہوش ہیں
نظم لفظوں میں بھیگا ہوا خواب ہے
قافیوں کا ردیفوں کا گرداب ہے