تِرے خیال سے باہر نکل کے روتے ہیں
فقیر لوگ ہیں تھوڑا سنبھل کے روتے ہیں
ہم اپنے دامنِ وحشت میں ہجر گوندھتے ہیں
ہم ایسے لوگ جو روئیں تو کھل کے روتے ہیں
ہم ایسے لوگ کہانی کی جان ہوتے ہیں
کہ جن کے واسطے پتھر پگھل کے روتے ہیں
خزاں رسیدہ درختوں کا سوگ کرتے ہوئے
یہ کون لوگ ہیں پتے کچل کے روتے ہیں
کسی کے واسطے نیندوں کا قتل کرتے ہیں
کسی کے واسطے شب بھر ٹہل کے روتے ہیں
ہم ایسے لوگ محبت مزاج پروانے
تمام رات چراغوں میں جل کے روتے ہیں
کبھی جو آئینہ دیکھیں تو چیخ اٹھتے ہیں
کہ اپنے عکس میں ہم لوگ ڈھل کے روتے ہیں
محمد معوذ حسن
No comments:
Post a Comment