Tuesday, 13 September 2022

چبھ رہا ہے سینے میں اک آئینہ ٹوٹا ہوا

 چُبھ رہا ہے سینے میں اک آئینہ ٹُوٹا ہوا

خیر اب جو بھی ہوا، جیسا ہوا، اچھا ہوا

ذہن کو رہنا تھا آخر مُبتلائے کشمکش

اس کو پایا تو اسے کھونے کا ڈر پیدا ہوا

ہم تِرے قدموں میں ہیں ظالم، ہمیں ٹھوکر نہ مار

جسم کے جُزدان میں اک دل بھی ہے رکھا ہوا

میری چیخوں کی صداؤں میں عجب آسیب ہے

میں نے جس کو بھی پکارا شخص وہ بہرا ہوا

اک شکستہ دل میں اب بھی ہے ہماری آرزو

چھوڑ آئیں ہیں کھنڈر میں اک دِیا جلتا ہوا

اصل میں کارِ محبت، کارِ عیاری بھی ہے

ہم تھے سادہ سو ہمیں اس شُغل میں گھاٹا ہوا

چاند سے چہرے کو بھی لگ جاتا ہے اک دن گہن

آج برسوں بعد اسے دیکھا تو اندازہ ہوا

راستہ میں نے بتایا قیس اور فرہاد کو

ہے یہ صحرائے جنوں سارا مِرا دیکھا ہوا

حُسن کو الزام دینا عشق کا شیوہ نہیں

جُرم دیوانے کا ہے ناصر کہ دیوانہ ہوا


ناصر امروہوی

No comments:

Post a Comment