Showing posts with label آصفہ نشاط. Show all posts
Showing posts with label آصفہ نشاط. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اترے

 ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اُترے

کتابِ زندگی کے اس طرح کچھ باب اترے

مِری آنکھوں سے لے لے روشنی اور نور کر دے

کسی قیمت پہ مالک منظر شب تاب اترے

کھُلے برتن اٹھا کر رکھ دئیے جو بارشوں میں

یہاں وہ رہ گئے خالی، وہاں سیلاب اترے

Wednesday, 14 April 2021

زندہ رہنا ہے ضروری تو ندامت کیسی

زندہ رہنا ہے ضروری تو ندامت کیسی

بات ہے بات، بھلا روز وضاحت کیسی

پھر نکلنے کے لیے ڈوبنا پڑتا ہے اسے

وہ تو سورج ہے، بھلا اس سے شکایت کیسی

کوئی تعویذ ہی لکھ دے تو پلا دوں اس کو

یہ محبت ہے تو پھر اس میں رعایت کیسی

Wednesday, 31 March 2021

کیا بتاؤں کہ کس گمان میں ہوں

 کیا بتاؤں کہ کس گُمان میں ہوں

مستقل ایک امتحان میں ہوں

آبلہ پا ہوں اور سفر میں ہوں

پر بُریدہ ہوں اور اُڑان میں ہوں

خود سری رکھ کے شاہزادی سی

کچھ کنیزوں کے درمیان میں ہوں

Tuesday, 23 March 2021

ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا

 ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا

پھر اس کے بعد یہ سوچا گیا کہ کیا ہوا تھا

نہ صرف تلخ بہت تھا وہ نیلگوں بھی تھا

مجھے تو شک ہے سمندر میں کچھ ملا ہوا تھا

کہانی میں کردار کچھ ملا ایسا 

تھے جس کے ہاتھ تو آزاد منہ بندھا ہوا تھا 

Monday, 22 March 2021

اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا

 اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا 

واقعہ اخبار میں کیوں رکھ دیا 

خواب کی اپنی بھی اک توقیر ہے 

دیدۂ بیدار میں کیوں رکھ دیا 

کھیل میں خانہ بدلنے کے لیے 

اپنا مہرہ ہار میں کیوں رکھ دیا 

کیا ضروری ہے شاعری کی جائے

 کیا ضروری ہے شاعری کی جائے

دل جلا کر ہی روشنی کی جائے

بعض چہرے بہت حسین سہی

پھر بھی کتنوں سے دوستی کی جائے

اک مسلسل شکست کا احساس

ایسی خواہش نہ پھر کبھی کی جائے

Sunday, 21 March 2021

دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھے

 دریافت کر لیا ہے، بسایا نہیں مجھے

سامان رکھ دیا ہے، سجایا نہیں مجھے

کیسا عجیب شخص ہے اٹھ کر چلا گیا

برباد ہو گیا تو بتایا نہیں مجھے

وہ میرے خواب لے کے سرہانے کھڑا رہا

میں سو رہی تھی اس نے جگایا نہیں مجھے