ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اُترے
کتابِ زندگی کے اس طرح کچھ باب اترے
مِری آنکھوں سے لے لے روشنی اور نور کر دے
کسی قیمت پہ مالک منظر شب تاب اترے
کھُلے برتن اٹھا کر رکھ دئیے جو بارشوں میں
یہاں وہ رہ گئے خالی، وہاں سیلاب اترے
ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اُترے
کتابِ زندگی کے اس طرح کچھ باب اترے
مِری آنکھوں سے لے لے روشنی اور نور کر دے
کسی قیمت پہ مالک منظر شب تاب اترے
کھُلے برتن اٹھا کر رکھ دئیے جو بارشوں میں
یہاں وہ رہ گئے خالی، وہاں سیلاب اترے
زندہ رہنا ہے ضروری تو ندامت کیسی
بات ہے بات، بھلا روز وضاحت کیسی
پھر نکلنے کے لیے ڈوبنا پڑتا ہے اسے
وہ تو سورج ہے، بھلا اس سے شکایت کیسی
کوئی تعویذ ہی لکھ دے تو پلا دوں اس کو
یہ محبت ہے تو پھر اس میں رعایت کیسی
کیا بتاؤں کہ کس گُمان میں ہوں
مستقل ایک امتحان میں ہوں
آبلہ پا ہوں اور سفر میں ہوں
پر بُریدہ ہوں اور اُڑان میں ہوں
خود سری رکھ کے شاہزادی سی
کچھ کنیزوں کے درمیان میں ہوں
ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا
پھر اس کے بعد یہ سوچا گیا کہ کیا ہوا تھا
نہ صرف تلخ بہت تھا وہ نیلگوں بھی تھا
مجھے تو شک ہے سمندر میں کچھ ملا ہوا تھا
کہانی میں کردار کچھ ملا ایسا
تھے جس کے ہاتھ تو آزاد منہ بندھا ہوا تھا
اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا
واقعہ اخبار میں کیوں رکھ دیا
خواب کی اپنی بھی اک توقیر ہے
دیدۂ بیدار میں کیوں رکھ دیا
کھیل میں خانہ بدلنے کے لیے
اپنا مہرہ ہار میں کیوں رکھ دیا
کیا ضروری ہے شاعری کی جائے
دل جلا کر ہی روشنی کی جائے
بعض چہرے بہت حسین سہی
پھر بھی کتنوں سے دوستی کی جائے
اک مسلسل شکست کا احساس
ایسی خواہش نہ پھر کبھی کی جائے
دریافت کر لیا ہے، بسایا نہیں مجھے
سامان رکھ دیا ہے، سجایا نہیں مجھے
کیسا عجیب شخص ہے اٹھ کر چلا گیا
برباد ہو گیا تو بتایا نہیں مجھے
وہ میرے خواب لے کے سرہانے کھڑا رہا
میں سو رہی تھی اس نے جگایا نہیں مجھے